اعراف · 111/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَأَرۡسِلۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ  ۝١١١
Qaalooo arjih wa akhaahu wa arsil filmadaaa`ini haashireen
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَرْجِهْ: اسے مؤخر کرو، اسے روکے رکھو، اسے قتل کرنے میں جلدی نہ کرو۔
  • حَاشِرِينَ: جمع کرنے والے، بھیجنے والے (شہروں میں جا کر ساحروں کو اکٹھا کرنے والے

تفسیر آیت:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے اپنا عصا اور ید بیضا کا معجزہ پیش کیا اور سچے دین کی دعوت دی تو فرعون کے درباری سرداروں اور بڑے لوگوں نے جو اس مجلس میں موجود تھے، فرعون کو مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا: "اے فرعون! موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو، انہیں کچھ مہلت دو اور ان کے معاملے کو مؤخر کرو۔ اور تمام شہروں اور بستیوں میں اپنے کارندے اور سپاہی بھیجو جو ہر جگہ سے ماہر ساحروں کو اکٹھا کر کے لے آئیں۔"

یہ مشورہ دراصل فرعون کے مشیروں کی طرف سے ایک چال تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ جادو ہے، اور اگر بڑے ماہر ساحر اکٹھے کر لیے جائیں تو وہ موسیٰ کے جادو کو شکست دے دیں گے۔ انہوں نے یہ تجویز اس لیے دی تاکہ موسیٰ علیہ السلام کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے اور ان کی دعوت کو بے اثر کیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ موسیٰ علیہ السلام کے معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔

یہاں سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو کبھی بھی مخالفین کی چالوں اور سازشوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کے منصوبے ناکام بنا دیتا ہے۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے ساحروں کو جمع کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن اللہ نے اسی مجلس کو حق کے ظہور کا ذریعہ بنا دیا، جب ساحر خود اللہ پر ایمان لے آئے۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ اہل حق کے ساتھ ہوتی ہے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ سچائی اور حق ہمیشہ غالب رہتا ہے، اور باطل کی چالیں خود باطل کرنے والوں کے لیے وبال بن جاتی ہیں۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور اپنے راستے پر ثابت قدم رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کے مکر کو ناکام بنا دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 109-113 — اعراف

109قَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٌ 
تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا علامہ جادوگر ہے
110يُرِيدُ أَن يُخۡرِجَكُم مِّنۡ أَرۡضِكُمۡۖ فَمَاذَا تَأۡمُرُونَ 
اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟
111قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَأَرۡسِلۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ 
انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے
112يَأۡتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍ 
کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں
113وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوٓاْ إِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ 
(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
111آیت

ترجمہ — اعراف 111

سورہ آیت 111/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 109–113. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں