ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آمَنتُم بِهِ: تم نے اس پر ایمان لائے (یعنی اللہ پر یا موسیٰ علیہ السلام پر)۔
- مَکْرٌ: چال، فریب، خفیہ تدبیر۔
- مَکَرْتُمُوهُ: تم نے اسے ترتیب دیا، تم نے یہ چال رچی۔
- لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا: تاکہ تم اس (شہر) کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال دو۔
- فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ: عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا (اس کا انجام)۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ساحروں کے جادو نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کے سامنے ہار مان لی، اور ان ساحروں نے حق کو پہچان کر فوراً سجدے میں گر کر ایمان لا کر کہا: "ہم رب العالمین پر ایمان لائے، جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے"، تو یہ منظر فرعون کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کا غرور اور تکبر ٹوٹ گیا، اور اس نے اپنے غصے اور تعصب کی وجہ سے ساحروں کو ڈانٹتے ہوئے کہا: "کیا تم نے موسیٰ پر ایمان لے آیا، اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا؟" یعنی تم نے میری حکومت اور میرے اختیار کو بالکل نظر انداز کر دیا، اور میرے مشورے کے بغیر ایک فیصلہ کر لیا۔
فرعون نے اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے ایک جھوٹی سازش کا پردہ ڈالا اور کہا: "یہ کوئی ایمان اور سچائی نہیں، بلکہ یہ ایک چال ہے جو تم نے شہر میں پہلے سے رچی تھی۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ تم نے موسیٰ کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اس مقابلے کے ذریعے شہر کے باشندوں (قبطیوں) کو یہاں سے نکال دو، تاکہ تم اور بنی اسرائیل اس شہر کی دولت اور اقتدار پر قابض ہو جاؤ۔ فرعون نے اس طرح ایک سادہ ایمان کو سیاسی سازش کا رنگ دے کر لوگوں کو ساحروں کے ایمان سے بدگمان کرنا چاہا۔
آخر میں فرعون نے دھمکی دی: "عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا" کہ میری طاقت کا کیا انجام ہے، اور تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یہ فرعون کی عادت تھی کہ وہ حق کو دبانے کے لیے طاقت اور خوف کا سہارا لیتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کو پہچاننے کے بعد اس پر ایمان لانے کے لیے کسی مخلوق کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ساحروں نے جب سچائی دیکھ لی تو انہوں نے فرعون کے خوف اور اس کی طاقت کی پرواہ کیے بغیر اللہ پر ایمان کا اعلان کر دیا۔ یہ ایمان کی سچائی اور خلوص کی انتہا ہے۔ آج بھی جب کوئی شخص حق کو پہچان لے تو اسے چاہیے کہ وہ کسی بھی طاقت، عزت یا دنیاوی مفاد کی خاطر حق کو چھپائے نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے، چاہے دنیا کی ساری طاقتیں ان کے خلاف کیوں نہ ہوں۔ یاد رکھیں، فرعون کی دھمکیاں ساحروں کو ایمان سے نہیں روک سکیں، اور وہ اللہ کی رحمت اور جنت کے حقدار بن گئے۔ جو شخص اللہ کے لیے کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔
📜 آیت 121-125 — اعراف
ترجمہ — اعراف 123
سورہ اعراف آیت 123 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں…سورہ آیت 123/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 121–125. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








