ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَيُشْرِكُونَ: کیا وہ شریک ٹھہراتے ہیں؟
- مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا: جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتا
- وَهُمْ يُخْلَقُونَ: حالانکہ وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکین کے اس بے بنیاد عقیدے پر گرفت فرماتا ہے اور ان کے اس فعل کی قباحت کو واضح کرتا ہے۔ مشرکین اپنی عبادت میں اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی بھی چیز کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ نہ وہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں، نہ نقصان، نہ ان کے پاس کوئی اختیار ہے۔ حالانکہ یہ معبودِ باطل خود مخلوق ہیں — چاہے وہ بت ہوں، پتھر ہوں، درخت ہوں، یا کوئی اور مخلوق — سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔
یہ بات عقلِ سلیم کے خلاف ہے کہ ایک مخلوق جو خود پیدا کی گئی ہو، اسے خالق کے برابر کھڑا کر دیا جائے۔ جس چیز میں خود اتنی طاقت نہیں کہ ایک ذرہ بھی پیدا کر سکے، وہ عبادت کی مستحق کیسے ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکین کے اس فعل پر تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں کہ کس طرح وہ ایسی چیزوں کو شریک بناتے ہیں جو خود مخلوق ہیں۔
یہ آیت ہمیں توحید کا عظیم سبق سکھاتی ہے۔ جب ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں کہ کائنات کا نظام کس قدر منظم ہے، سورج، چاند، ستارے، زمین، آسمان، پہاڑ، سمندر — سب کچھ ایک ہی خالق کے حکم سے چل رہا ہے، تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ عبادت صرف اسی کی ہے جس نے یہ سب پیدا کیا۔ جو مخلوق خود اپنے خالق کی محتاج ہے، وہ کسی کی عبادت کی مستحق نہیں ہو سکتی۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو شرک کی تمام اقسام سے پاک کریں۔ صرف اللہ ہی وہ ذات ہے جو پیدا کرتا ہے، رزق دیتا ہے، زندگی اور موت دیتا ہے، اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ جب ہم اپنی عبادت کو خالص اللہ کے لیے کریں گے، تو ہمارے دلوں کو سکون ملے گا، ہماری زندگیوں میں برکت آئے گی، اور ہم اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں گے۔ اللہ ہمیں شرک سے بچائے اور توحید پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 189-193 — سورہ اعراف
ترجمہ — اعراف 191
سورہ اعراف آیت 191 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی…سورہ آیت 191/206 — سورہ اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ اعراف سنیں, سورہ اعراف ترجمہ, سورہ اعراف mp3, سورہ اعراف pdf. آیت 189–193. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








