ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ذِکْر: نصیحت، یاد دہانی اور وہ چیز جو انسان کو اس کے رب کی طرف متوجہ کرے۔
- خُلَفَاء: جانشین، زمین میں آباد کار۔
- بَسْطَةً: کشادگی، قوت اور جسمانی عظمت۔
- آلَاء: نعمتیں، احسانات۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ہود علیہ السلام کی قومِ عاد کے اس تعجب اور حیرت کا ذکر فرما رہے ہیں جو انہوں نے اس بات پر ظاہر کیا کہ ان کے پاس ایک بشر (انسان) رسول بنا کر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس رویے پر فرماتے ہیں: کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت اور یاد دہانی ایک ایسے شخص کے ذریعے آئی جو تم ہی میں سے ہے، جس کی صداقت، امانت اور نسب تمہیں معلوم ہے؟ کیا یہ کوئی انوکھی بات ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے انہی میں سے کسی کو منتخب کرے تاکہ وہ انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرائے اور ان کی بھلائی کی طرف رہنمائی کرے؟ یہ تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے تمہیں سمجھانے کے لیے تمہاری ہی زبان اور تمہاری ہی جنس کا ایک پیغمبر بھیجا، تاکہ تم اس کی بات آسانی سے سمجھ سکو۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی نعمتوں کی یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں قومِ نوح کے بعد زمین کا جانشین بنایا۔ جب قومِ نوح نے اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ سے ہلاکت کا سامنا کیا تو اللہ نے تمہیں ان کی جگہ آباد کیا اور تمہیں زمین میں اقتدار عطا کیا۔ مزید برآں، اللہ نے تمہیں جسمانی طور پر بھی بڑی کشادگی اور قوت عطا کی — تمہارے جسموں کو بڑا، مضبوط اور طاقتور بنایا، تاکہ تم زمین پر کام کرو اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکو۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں نصیحت فرماتا ہے: اللہ کی ان تمام نعمتوں کو یاد کرو اور ان کا شکر ادا کرو، کیونکہ نعمتوں کا ذکر کرنا اور ان پر شکر بجا لانا ہی فلاح اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو پہچانو گے اور اس کے شکر گزار بندے بنو گے تو تمہیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی نصیب ہوگی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے شمار احسانات فرماتا ہے، لیکن اکثر انسان ان نعمتوں سے غافل رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کی نعمتوں کو پہچانیں، ان کا ذکر کریں اور شکر ادا کریں۔ اللہ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے — صحت، قوت، رزق، امن اور ایمان — یہ سب اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ جب ہم اللہ کی نعمتوں کو یاد کریں گے تو ہمارے دل میں اس کی محبت بڑھے گی اور ہم اس کی اطاعت کی طرف راغب ہوں گے۔ یاد رکھیں، اللہ کی نعمتوں کا شکر ہی وہ ذریعہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ آئیے، ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احسانات کو گنتے رہیں اور اس کے شکر گزار بندے بن کر فلاح پائیں۔
📜 آیت 67-71 — اعراف
ترجمہ — اعراف 69
سورہ اعراف آیت 69 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ…سورہ آیت 69/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 67–71. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








