اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا: ہم نے ان پر بارش برسائی۔ اس سے مراد پتھروں کی بارش ہے، نہ کہ عام پانی کی بارش۔
عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ: مجرموں کا انجام، یعنی ان کا انجامِ کار۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے انجام کو بیان فرمایا ہے۔ جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے اپنی بدکاریوں اور سرکشی پر اصرار کیا اور اللہ کے عذاب کو مذاق سمجھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ یہ پتھر پکی ہوئی مٹی کے تھے، جو ان پر مسلسل گرتے رہے، اور ساتھ ہی ان کی بستی کو الٹ دیا گیا، یعنی اوپر کی چیز نیچے اور نیچے کی چیز اوپر کر دی گئی۔ یہ عذاب ان کی بدکاریوں اور اللہ کے رسول کی تکذیب کا نتیجہ تھا۔
اللہ تعالیٰ اس آیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ آپ خود غور کریں کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا؟ وہ قومیں جو اللہ کے احکام سے سرتابی کرتی ہیں اور اپنے نفسانی خواہشات کی پیروی کرتی ہیں، ان کا انجام ہمیشہ تباہی اور رسوائی ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور معصیت کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ قومِ لوط کے پاس حضرت لوط علیہ السلام جیسے نبی تھے، لیکن انہوں نے ان کی بات نہ مانی اور اپنی بداعمالیوں پر قائم رہے، تو اللہ کا عذاب آیا۔ آج بھی جو لوگ اللہ کے احکام کو نظر انداز کرتے ہیں اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، وہ اسی انجام سے ڈریں۔ لیکن اللہ رحیم و کریم ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں، برائیوں سے بچیں، اور اللہ کی رحمت کے طالب رہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، لیکن اس کی رحمت بھی بہت وسیع ہے۔ جو شخص توبہ کر لے، اللہ اسے معاف کر دیتا ہے اور اسے کبھی محروم نہیں کرتا۔
تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں
اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔