ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَتَجَنَّبُهَا: اس سے دور بھاگتا ہے، کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔
- الْأَشْقَى: سب سے زیادہ بدبخت، جو کفر و عناد میں حد سے گزر گیا ہو۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان دو قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو نصیحت اور قرآنِ حکیم کے سامنے آتے ہیں۔ ایک وہ شخص ہے جو دل سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی خشیت رکھتا ہے، وہ نصیحت کو غور سے سنتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو انتہائی بدبخت ہیں، جن کے دلوں پر کفر اور عناد کی مہر لگ چکی ہے۔ یہ لوگ نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس سے بھاگتے ہیں، اسے سننے سے گریز کرتے ہیں اور اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
یہ "اشقیٰ" لوگ وہ ہیں جنہوں نے حق کو پہچاننے کے باوجود اسے قبول نہ کیا، اور اپنی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے ہدایت کے راستے کو چھوڑ دیا۔ ان کی بدبختی انہیں قرآن کی روشنی سے محروم رکھتی ہے، اور وہ اپنے اس رویے کی وجہ سے آخرت میں جہنم کی عظیم آگ میں داخل ہوں گے، جہاں وہ نہ مریں گے کہ آرام پائیں اور نہ اس طرح زندہ رہیں گے کہ انہیں کوئی سکون حاصل ہو۔
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نصیحت کے لیے کھلا رکھیں۔ قرآنِ کریم ہر شخص کے لیے شفا اور رحمت ہے، لیکن اس سے فائدہ اسی کو ملتا ہے جو اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ جس شخص کا دل خشوع اور اللہ کے خوف سے لبریز ہو، وہ ہر آیت سے نیا سبق حاصل کرتا ہے، جبکہ جو شخص تکبر اور غرور میں مبتلا ہو، وہ اس ہدایت سے محروم رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان "اشقیٰ" لوگوں میں شامل ہونے سے بچائے اور ہمارے دلوں کو اپنی یاد اور قرآن کی نصیحت کے لیے نرم اور تیار بنائے۔ آمین۔
📜 آیت 9-13 — اعلی
ترجمہ — اعلی 11
سورہ اعلی آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (بےخوف) بدبخت پہلو تہی کرے گاسورہ آیت 11/19 — اعلی الأعلى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعلی سنیں, اعلی ترجمہ, اعلی mp3, اعلی pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








