ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَوْ: یا (یہاں پر "یا" کے معنی میں ہے، یعنی یا پھر)
- أَمَرَ: حکم دیا، تلقین کی
- بِالتَّقْوَىٰ: تقویٰ کی، پرہیزگاری کی، اللہ سے ڈرنے کی
تفسیر:
یہ آیت سورہ علق کی ان آیات کا حصہ ہے جن میں ابو جہل کے اس فعل پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکنے کے سلسلے میں کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تم نے اس شخص (ابو جہل) کا حال دیکھا جو ایک بندے (محمد ﷺ) کو اس وقت روکتا ہے جب وہ اپنے رب کے لیے نماز ادا کرتا ہے؟ بتاؤ اگر وہ بندہ (یعنی نبی ﷺ) ہدایت پر ہو، یا وہ لوگوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری کا حکم دیتا ہو، تو کیا یہ اسے روکنا مناسب ہے؟ یعنی جو شخص خود ہدایت یافتہ ہو اور دوسروں کو اللہ سے ڈرنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی تلقین کرتا ہو، اسے نماز سے روکنا کتنا بڑا ظلم اور ناشائستہ فعل ہے۔
یہاں "تقویٰ" سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی نہی سے رکنا ہے، اور یہ وہ صفت ہے جو نبی کریم ﷺ میں کمال درجے پر موجود تھی۔ آپ ﷺ نہ صرف خود متقی تھے بلکہ اپنی امت کو بھی تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیتے تھے۔ اس کے باوجود ابو جہل جیسا شخص آپ کو اس عبادت سے روکنے کی جسارت کرتا ہے، یہ انتہائی تعجب خیز اور قابل مذمت بات ہے۔
فوائد:
- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز اور تقویٰ کی دعوت دینا بہت بڑی فضیلت کا کام ہے، اور جو شخص اس راستے پر چلے اسے کسی کی روک ٹوک کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
- یہ آیت مسلمانوں کو صبر اور استقامت کا درس دیتی ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو نیکی اور عبادت سے روکنے کی کوشش کرے تو آپ اپنے موقف پر قائم رہیں۔
- اس میں اہل ایمان کے لیے تسلی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کرتا ہے۔
- تقویٰ ہی وہ معیار ہے جس کی بنیاد پر اللہ کے نزدیک انسان کی عزت و مرتبہ طے ہوتا ہے، اور یہی وہ خوبی ہے جو نبی ﷺ کی دعوت کا مرکزی نکتہ تھی۔
📜 آیت 10-14 — علق
ترجمہ — علق 12
سورہ علق آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یا پرہیز گاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)سورہ آیت 12/19 — علق العلق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: علق سنیں, علق ترجمہ, علق mp3, علق pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








