ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ثَقُلَتْ: بھاری ہو گئیں۔
- مَوَازِينُهُ: اس کے تولنے کے پلڑے (یعنی نیکیوں اور بدیوں کا وزن کرنے والے ترازو)۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے حساب و کتاب کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جس شخص کے میزان (ترازو) میں نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا، یعنی اس کے اعمالِ صالحہ اس کے گناہوں پر غالب آ جائیں گے، تو اس کا انجام بہترین ہو گا۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں ایمان اور عملِ صالح کی روشنی میں زندگی گزاری، اور ان کی نیکیاں ان کی بدیوں پر فوقیت رکھتی تھیں۔ ان کے لیے رضا اور خوشی کی زندگی ہے جو جنت کی نعمتوں سے معمور ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اعمال کا وزن کیا جائے گا، اور جو شخص نیکیوں میں بھاری ہو گا، وہ کامیاب ہو گا۔
فوائد:
- یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ قیامت کا حساب انتہائی عدل کے ساتھ ہو گا، اور کوئی عمل ضائع نہیں جائے گا۔
- ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں نیکیوں کو زیادہ سے زیادہ جمع کریں تاکہ ہمارے میزان بھاری ہوں۔
- یہ مومن کے لیے بشارت ہے کہ اگر وہ اپنے اعمال کو سنوار لے، تو اللہ کی رحمت اسے کبھی مایوس نہیں کرے گی۔
- اس آیت سے صبر اور استقامت کا سبق ملتا ہے کہ دنیا کے امتحانات میں کامیابی کا معیار ظاہری مال و دولت نہیں، بلکہ اعمال کی خوبی اور خلوص ہے۔
📜 آیت 4-8 — قارعہ
ترجمہ — قارعہ 6
سورہ آیت 6/11 — قارعہ القارعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قارعہ سنیں, قارعہ ترجمہ, قارعہ mp3, قارعہ pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








