Wa qeela yaaa ardubla`ee maaa`aki wa yaa samaaa`u aqi`ee wa gheedal maaa`u wa qudiyal amru wastawat `alal joodiyyi wa qeela bu`dal lilqawmiz zaalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و گفته شد: اى زمين آب خود فروبر و اى آسمان بازايست. آب فروشد و كار به پايان آمد و كشتى بر كوه جودى قرار گرفت و ندا آمد كه اى لعنت باد بر مردم ستمكاره.
اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ابلعی: نگل جانا، جذب کر لینا۔
اقلعی: رک جانا، باز آ جانا۔
غیض الماء: پانی خشک ہو گیا، گھٹ گیا۔
قضی الامر: کام ختم کر دیا گیا، فیصلہ نافذ ہو گیا۔
الجودی: ایک پہاڑ کا نام (جزیرۃ ابن عمر کے قریب، موصل کے علاقے میں)۔
بعداً: دوری، ہلاکت، رحمت سے محرومی۔
تفسیر:
جب طوفانِ نوح اپنے انجام کو پہنچا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہوا کہ مومنین نجات پا چکے اور کافر ہلاک ہو چکے، تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا: "اے زمین! اپنا پانی نگل لے" یعنی جو پانی تیرے چشمے اور سوتوں سے نکل کر سطح پر آیا تھا، اسے واپس جذب کر لے۔ اور آسمان کو حکم دیا: "اے آسمان! رک جا" یعنی بارش بند ہو جائے۔ چنانچہ پانی گھٹنے لگا اور زمین نے اسے جذب کر لیا۔ اس طرح اللہ کا فیصلہ مکمل ہوا اور کافروں کی ہلاکت کا معاملہ طے پا گیا۔ پھر کشتیِ نوح پہاڑِ جودی پر ٹھہر گئی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوا: "ظالموں پر ہلاکت اور دوری ہو" یعنی وہ لوگ جو اللہ کی حدود سے تجاوز کر گئے، جنہوں نے حق کو جھٹلایا اور اپنے نبی کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا، ان پر اللہ کی رحمت سے دوری اور عذاب کا نزول ہو۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مبارکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اس کے کامل اختیار کا درس دیتی ہے۔ جس طرح اللہ نے ایک لفظ سے طوفان کو روک دیا اور زمین کو حکم دیا کہ پانی نگل لے، اسی طرح وہ ہر مشکل کو آسان کرنے پر قادر ہے۔ اس میں مومنین کے لیے بڑی تسلی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے تقریباً ایک ہزار سال تک صبر کیا، دعوت دی، اور آخر کار اللہ کی مدد آئی۔ آج بھی جو شخص حق پر قائم رہتا ہے، اللہ اسے ضرور کامیابی عطا فرماتا ہے۔ نیز یہ آیت ظالموں کے انجام سے ڈراتی ہے کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے، اور ظلم کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ظلم سے بچیں، حق پر قائم رہیں، اور اللہ کی رحمت کے طالب رہیں۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ کی مشیت کے آگے کچھ بھی حائل نہیں ہو سکتا، چاہے وہ طوفان ہو یا کوئی اور مشکل۔
اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو
اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا
اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت
اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے
خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔