اے ابراہیم اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے کا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا: اس بحث و تکرار سے منہ موڑو، اس جدال کو چھوڑ دو۔
أَمْرُ رَبِّكَ: تمہارے رب کا فیصلہ اور حکم (عذاب کا)۔
غَيْرُ مَرْدُودٍ: جو ٹلنے والا نہیں، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کی خاطر، خاص طور پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر آنے والے عذاب کے بارے میں، اللہ سے شفاعت اور رحمت کی التجا کی، تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اے ابراہیم! اس جدال اور درخواست سے باز آ جاؤ۔" انہوں نے سمجھایا کہ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے، بلکہ اللہ رب العالمین کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے، اور اس قوم پر عذاب کا حکم نافذ ہو چکا ہے جو ان کے اصرارِ کفر و فسق اور حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے حتمی ہے۔ یہ عذاب ایسا ہے جو ان پر نازل ہو کر رہے گا، نہ کوئی اسے ٹال سکتا ہے، نہ کوئی دعا یا جدال اسے روک سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم سبق ہے کہ اللہ کے فیصلے جب صادر ہو جائیں تو وہ بدلتے نہیں، خاص طور پر جب قوم کی سرکشی اور ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ شفاعت ان کی رحمتِ الٰہی پر امید اور اپنی امت کے لیے محبت کا اظہار تھی، لیکن اللہ کا قانون عدل پر مبنی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے حد وسیع ہے، لیکن اس کے عذاب سے ڈرنا بھی ضروری ہے۔ جب اللہ کا حکم آ جائے تو کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں گناہوں سے بچیں، کیونکہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے، لیکن جو لوگ حد سے تجاوز کریں اور اصلاح نہ کریں، ان کے لیے اللہ کا عذاب ناگزیر ہے۔ آئیے ہم اپنے رب کی اطاعت کریں اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں، کیونکہ وہی ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔
اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔