ہود · 75/123
ترجمہ تلفظ — ہود
إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌ مُّنِيبٌ  ۝٧٥
Inna Ibraaheema lahaleemun awwwaahum muneeb
📖 اردو ترجمہ
بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حَلِیم: بردبار، تحمل والا، جلد بازی نہ کرنے والا۔
  • أَوَّاه: بہت زیادہ گڑگڑانے والا، اللہ کے حضور بکثرت دعا اور تضرع کرنے والا۔
  • مُنِیب: توبہ کرنے والا، اللہ کی طرف رجوع کرنے والا۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تین نمایاں صفات بیان فرمائی ہیں، جو انہیں دوسرے انبیاء میں ممتاز کرتی ہیں۔

پہلی صفت: حلم (بردباری)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نہایت بردبار تھے۔ وہ کبھی جلد بازی نہیں کرتے تھے، نہ کسی پر فوری غضب نازل کرنے کے خواہش مند ہوتے تھے۔ جب ان کی قوم نے انہیں آگ میں ڈالا، تو انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور اپنے رب کی رحمت پر بھروسہ کیا۔ حلم کا مطلب یہ ہے کہ انسان غصے میں اپنے اختیار سے باہر نہ ہو، معاملات کو سمجھداری اور نرمی سے حل کرے۔

دوسری صفت: اوّاہ (بکثرت گڑگڑانے والا)

یہ صفت ان کی عبادت و دعا کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حضور اس طرح گڑگڑاتے تھے جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کے سامنے روتا ہے۔ وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوتے، اللہ سے معافی مانگتے اور اپنی ہر ضرورت میں اسی کی طرف رجوع کرتے۔ "اوّاہ" وہ شخص ہے جو اللہ کے خوف سے آہیں بھرتا ہے، دعا میں الحاح و زاری کرتا ہے۔

تیسری صفت: منیب (رجوع کرنے والا)

حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ جب کوئی مشکل پیش آتی، تو فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوتے۔ وہ اپنے رب کی اطاعت میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ ان کا ہر عمل، ہر سوچ اور ہر ارادہ اللہ کی رضا کے تابع تھا۔ "انابہ" کا مطلب ہے توبہ کے ساتھ اللہ کی طرف پلٹنا، اور یہ صفت مومن کی پہچان ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ تینوں صفات ہر مومن کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں بردباری اپنائیں، اللہ کے حضور گڑگڑائیں اور ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کریں، تو ہماری زندگیوں میں سکون آئے گا۔ آج ہمیں جلد بازی، غصہ اور اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کی عادت نے گھیر رکھا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے، نہ کہ دنیاوی مفادات میں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان صفات کو اپنانے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 73-77 — ہود

73قَالُوٓاْ أَتَعۡجَبِينَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِۖ رَحۡمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيۡكُمۡ أَهۡلَ ٱلۡبَيۡتِۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ 
انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے
74فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلرَّوۡعُ وَجَآءَتۡهُ ٱلۡبُشۡرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِي قَوۡمِ لُوطٍ 
جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے
75إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌ مُّنِيبٌ 
بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے
76يَٰٓإِبۡرَٰهِيمُ أَعۡرِضۡ عَنۡ هَٰذَآۖ إِنَّهُۥ قَدۡ جَآءَ أَمۡرُ رَبِّكَۖ وَإِنَّهُمۡ ءَاتِيهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُودٍ 
اے ابراہیم اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے کا
77وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطًا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَقَالَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَصِيبٌ 
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے
ہودقرآن فہرست
123آیت
مکیRevelation
75آیت

ترجمہ — ہود 75

سورہ آیت 75/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں