Qaaloo yaa Lootu innaa Rusulu Rabbika lai yasiloo ilaika fa asri bi ahlika biqit `im minal laili wa laa yaltafit minkum ahadun illam ra ataka innahoo museebuhaa maaa asaabahum; inna maw`i dahumus subh; alaisas subhu biqareeb
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے؟
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفتند: اى لوط، ما رسولان پروردگار تو هستيم. اينان، هرگز به تو دست نخواهند يافت. چون پاسى از شب بگذرد، خاندان خويش را بيرون ببر. و هيچ يك از شما روى برنگرداند جز زنت كه به او نيز آنچه به آنها رسد خواهد رسيد. وعده آنها صبحگاه است. آيا صبح نزديك نيست؟
فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے؟
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
رُسُلُ رَبِّكَ: آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے۔
فَأَسْرِ: رات کے وقت کوچ کرو۔
بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ: رات کے کسی حصے میں (رات کے آخری پہر میں)۔
لَن يَصِلُوا إِلَيْكَ: وہ آپ تک ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے (آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے)۔
مُصِيبُهَا: اسے پہنچنے والا ہے۔
مَوْعِدَهُمُ: ان کا وعدہ (عذاب کا وقت)۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس خوبصورت جوانوں کی صورت میں تشریف لائے اور قوم کے فاسق لوگوں کو ان کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ بری نیت سے دوڑے آئے۔ حضرت لوط علیہ السلام بہت پریشان ہوئے، لیکن اللہ کے فرشتوں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اے لوط! ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، یہ بدکار لوگ ہرگز آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے اور نہ ہی آپ کو کوئی نقصان پہنچا سکیں گے۔ پھر انہیں حکم دیا کہ آپ رات کے کسی حصے میں اپنے اہل خانہ کو لے کر اس بستی سے نکل جائیں، اور خبردار! تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، البتہ آپ کی بیوی (جس نے کفر اور نفاق کا راستہ اختیار کیا تھا اور قوم کے ساتھ میل جول رکھتی تھی) پیچھے رہ جائے گی، کیونکہ اس پر بھی وہی عذاب نازل ہوگا جو قوم پر نازل ہوگا۔ فرشتوں نے مزید فرمایا کہ ان کے عذاب کا وعدہ صبح کا وقت ہے، اور صبح بہت قریب ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اپنے نبی کی حفاظت کا عظیم مظاہرہ تھا کہ جب مومنین پر مصیبت آتی ہے تو اللہ انہیں نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ رات کے اندھیرے میں اپنے اہل خانہ کو لے کر نکل جائیں تاکہ صبح کا عذاب آئے تو وہ محفوظ ہوں۔ یہ سبق ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، اور وہ ہمیشہ اپنے بندوں کی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے، چاہے دشمن کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم بہت بڑی اور طاقتور تھی، لیکن اللہ کے فرشتوں نے ایک لفظ میں انہیں یقین دلا دیا کہ وہ آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ یہ ہمارے لیے بھی بشارت ہے کہ اگر ہم اللہ پر بھروسہ کریں اور اس کی اطاعت کریں تو وہ ہمیں ہر مشکل سے نکال دے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی سبق ہے کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور اپنے نبیوں کے دشمن بنتے ہیں، ان کا انجام تباہی اور بربادی ہے۔ اللہ کا عذاب دیر سے آتا ہے لیکن بہت قریب ہے، جیسے صبح کا وقت جو رات کے بعد یقینی طور پر آتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اپنے آپ کو اس کے عذاب سے بچائیں۔
فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔