یوسف · 85/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ ۝٨٥
Qaaloo tallaahi tafta`u tazkuru Yoosufa hattaa takoona haradan aw takoona minal haalikeen
📖 اردو ترجمہ
بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَفْتَأُ: یعنی باز نہ رہنا، لگاتار کرتے رہنا۔ اس کا تقدیر ہے "لا تفتأ" یعنی تم باز نہیں آتے۔
  • حَرَضًا: اس شخص کو کہتے ہیں جو بیماری یا غم کی شدت سے بالکل کمزور ہو کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جائے، نہ مرے اور نہ زندہ رہے۔
  • الْهَالِكِينَ: ہلاک ہونے والے، مرنے والے۔

تفسیر:

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے جب دیکھا کہ آپ صدمۂ یوسف میں مبتلا ہیں اور رات دن اسی کے غم میں گھلتے رہتے ہیں، تو وہ آپ کی اس حالت پر افسوس کرتے ہوئے کہنے لگے: "تالله" یعنی قسم ہے اللہ کی! "تم یوسف کا ذکر کرتے ہی رہو گے" یعنی تم اس کی یاد اور اس کے غم سے باز نہیں آتے، نہ دن کو چین آتا ہے نہ رات کو سکون ملتا ہے۔ "یہاں تک کہ تم حرض ہو جاؤ گے" یعنی اس قدر کمزور اور نڈھال ہو جاؤ گے کہ تمہارا جسم بالکل گھل جائے گا، بیماری تمہیں چور چور کر دے گی۔ "یا تم ہلاک ہو جاؤ گے" یعنی یہ غم تمہیں موت کے گھاٹ اتار دے گا۔

یہ الفاظ دراصل شفقت اور محبت سے کہے گئے تھے، لیکن ساتھ ہی ان میں نرمی سے سمجھانے کی کوشش تھی کہ اب آپ اپنے آپ کو اس قدر رنج و الم میں مبتلا نہ رکھیں، کیونکہ یہ غم آپ کی جان لے لے گا۔ وہ چاہتے تھے کہ آپ صبر کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں، کیونکہ ایک باپ کی حیثیت سے آپ کی زندگی ان کے لیے بہت اہم تھی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ غم اور مصیبت میں انسان کو اعتدال رکھنا چاہیے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا یوسف سے محبت کرنا فطری تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے آپ کو تباہ کر لے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، صبر کریں اور اپنی زندگی کو اللہ کی عبادت اور نیک کاموں میں گزاریں۔ غم کو دل میں رکھنا جائز ہے، لیکن اسے حد سے تجاوز نہ کرنے دیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" اگر آپ کو کوئی نقصان پہنچے یا کوئی عزیز چھن جائے تو یقین رکھیں کہ اللہ کے پاس اس کا بہتر بدلہ ہے۔ دعا کریں، صبر کریں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ اللہ کی رحمت قریب ہے۔



📜 آیت 83-87 — یوسف

83قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
84وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
85قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ
بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے
86قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
87يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
85آیت

ترجمہ — یوسف 85

سورہ یوسف آیت 85 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی…

سورہ آیت 85/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 83–87. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں