ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْجَانَّ: جنوں کا باپ (ابو الجن)، جسے ابلیس بھی کہا جاتا ہے۔
- السَّمُوم: شدید گرم اور بے دھوئیں کی آگ۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اپنی مخلوقات کے تنوع کا ذکر فرما رہے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے جنوں کے باپ (یعنی ابلیس) کو آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے پیدا کیا تھا۔ اس کی تخلیق کا مادہ "نارِ سموم" تھا، یعنی وہ آگ جو انتہائی شدید گرم ہو، بغیر دھوئیں کے، اور اس میں شعلے کی تیز حرارت ہو۔ یہ آگ عام آگ سے مختلف تھی، جس میں دھواں نہیں ہوتا، لیکن اس کی گرمی بہت تیز اور اثر انگیز ہوتی ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے جنوں کی تخلیق کا ذکر اس لیے کیا تاکہ انسان اپنی تخلیق پر غور کرے اور اپنے رب کی عظمت کو پہچانے۔ جنوں کو آگ سے پیدا کیا گیا اور انسان کو مٹی سے، اور دونوں کی فطرت اور مزاج میں فرق ہے۔ یہ آیت اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا، جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی مذکور ہے، اور اس نے اپنی تخلیق کے مادے (آگ) پر غرور کیا اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے، وہ جسے چاہے جس مادے سے پیدا کرے۔ ہمیں اپنی تخلیق پر غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اصل فضیلت تقویٰ اور اطاعت میں ہے، نہ کہ نسب یا مادۂ تخلیق میں۔ ابلیس نے اپنی تخلیق کے مادے (آگ) کو بہتر سمجھ کر سرکشی کی، جس کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کے حکموں کے سامنے سر تسلیم خم کریں اور اپنے مقام و مرتبے پر فخر نہ کریں، کیونکہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی عظمت اور اپنی کمزوری کا احساس دلاتی ہے، تاکہ ہم اپنے خالق کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کریں۔
📜 آیت 25-29 — حجر
ترجمہ — حجر 27
سورہ حجر آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ…سورہ آیت 27/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








