ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَلْصَالٍ: خشک مٹی جو بجنے پر آواز دے۔
- حَمَإٍ: سیاہ مٹی۔
- مَسْنُونٍ: بدبودار، جس کی بو بدل گئی ہو۔
تفسیر آیت:
اے نبی! اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا تھا: "میں ایک بشر (انسان) پیدا کرنے والا ہوں، جو خشک مٹی سے ہوگا، اور وہ خشک مٹی سیاہ، بدبودار مٹی سے بنی ہوگی۔" یہ وہ مٹی ہے جو گندگی اور بدبو کی وجہ سے تبدیل ہو چکی تھی، اور اسے خشک ہونے پر آواز دینے والی صلصل کہا گیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی قدرت کا ایک عظیم نمونہ دکھایا ہے کہ اس نے انسان کو معمولی اور حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے اشرف المخلوقات بنایا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور اس کی حکمت و قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ اس میں ایک سبق بھی ہے کہ انسان کو اپنی اصل کو یاد رکھنا چاہیے، اور تکبر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی تخلیق کی ابتدا ایک حقیر مٹی سے ہوئی تھی۔ یہ آیت اللہ کی رحمت اور اس کی مخلوق پر فضل و کرم کی یاد دلاتی ہے، اور ہمیں اپنے خالق کی عظمت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
📜 آیت 26-30 — حجر
ترجمہ — حجر 28
سورہ حجر آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں…سورہ آیت 28/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








