ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اللَّعْنَۃ: رحمت سے دوری، پھٹکار، لعنت۔
- یَوْمِ الدِّیْنِ: جزا و سزا کا دن، یعنی قیامت کا دن۔
تفسیرِ آیت:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے لیے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ اے ابلیس! تجھ پر میری لعنت اور پھٹکار ہے، اور یہ لعنت تجھ پر قیامت کے دن تک رہے گی، جب تمام لوگ اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ یعنی شیطان کو اللہ کی رحمت سے مکمل طور پر نکال دیا گیا، اور وہ آسمانوں اور زمین میں ہر جگہ ملعون اور مردود ہے۔ یہ لعنت صرف دنیا تک محدود نہیں، بلکہ آخرت تک جاری رہے گی، اور قیامت کے دن اسے اپنے انجامِ بد کا مزہ چکھنا ہوگا۔
یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ شیطان اللہ کی رحمت سے محروم ہو چکا ہے، اور وہ اپنی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ملعون ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم کبھی اس کے راستے پر نہ چلیں، اور اس کی پیروی سے بچیں۔ اگر ہم شیطان کے وسوسوں میں آ گئے تو ہم بھی اس کے انجام سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہمیں قرآن اور سنت کا راستہ دکھایا ہے، اور جو شخص اللہ کی اطاعت کرتا ہے، وہ شیطان کی لعنت سے محفوظ رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر وقت اللہ کی پناہ مانگیں اور شیطان کے شر سے بچنے کی دعا کریں، کیونکہ وہ ہمارا کھلا دشمن ہے اور ہمیں گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اللہ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور اس کی لعنت سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 33-37 — حجر
ترجمہ — حجر 35
سورہ حجر آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)سورہ آیت 35/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








