ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بِالْحَقِّ: حق کے ساتھ، یعنی حکمت اور مقصد کے ساتھ، بے مقصد نہیں۔
- السَّاعَةَ: قیامت کا دن۔
- فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ: درگزر کرو، ایسی درگزر جو خوبصورت ہو، جس میں کوئی ملامت، جھڑک یا کینہ نہ ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوقات کو کھیل تماشے کے لیے یا بے مقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ ان سب کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یعنی یہ ساری کائنات اپنے خالق کی عظمت، کمال اور قدرت پر دلالت کرتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ عبادت کے لائق صرف وہی ذات ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا۔ یہ نظامِ کائنات کسی حکمت کے بغیر نہیں چل رہا، بلکہ ہر چیز ایک مقصد کے تحت وجود میں آئی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ وہ دن ضرور آنے والا ہے جب ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، نیک کو اس کی نیکی کا اجر ملے گا اور بدکار کو اس کی بدکاری کی سزا۔ یہ وہ دن ہے جب عدلِ الٰہی کا مکمل ظہور ہوگا، اور ہر ظالم کو اس کے ظلم کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیتا ہے کہ اے رسول! جب قیامت کا آنا یقینی ہے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملنا ہے، تو آپ مشرکین اور کافروں سے درگزر کریں، ان کی زیادتیوں اور تکلیفوں کو برداشت کریں، اور انہیں معاف کر دیں۔ لیکن یہ معافی ایسی ہو جو "صفح جمیل" ہو، یعنی ایسی درگزر جو خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو، جس میں کوئی شکایت، کوئی کینہ، کوئی بغض اور کوئی ملامت نہ ہو۔ یہ وہ درگزر ہے جو حسنِ اخلاق کی انتہا ہے، اور جس سے دلوں کو جوڑنے اور اسلام کی دعوت کو عام کرنے میں مدد ملتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ ہمیں اس کائنات پر غور و فکر کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ہمارے رب کی عظمت اور قدرت کا آئینہ ہے۔ جب ہم آسمان کی وسعت، زمین کی خوبصورتی اور ان کے درمیان موجود بے شمار مخلوقات کو دیکھتے ہیں، تو ہمارا ایمان مزید پختہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ بے مقصد نہیں ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ قیامت کا یقین ہمیں نیک عمل کی ترغیب دیتا ہے اور گناہوں سے بچاتا ہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے میں لوگوں کی غلطیوں اور زیادتیوں پر درگزر سے کام لینا چاہیے، خاص طور پر جب ہم حق پر ہوں۔ معاف کرنے والا دل انسان کو اللہ کے نزدیک محبوب بناتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو نرم کرتا ہے اور لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرتا ہے۔ یاد رکھیں، بدلہ لینے کا وقت قیامت کا دن ہے، لیکن درگزر کا وقت آج ہے، کیونکہ معافی ہی وہ خوبصورت صفت ہے جو مومن کے کردار کی زینت بنتی ہے۔
📜 آیت 83-87 — حجر
ترجمہ — حجر 85
سورہ حجر آیت 85 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات)…سورہ آیت 85/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 83–87. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








