اسراء · 47/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَىٰ إِذْ يَقُولُ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا ۝٤٧
nahnu a`lamu bimaa yastami`oona biheee iz yastami`oona ilaika wa iz hum najwaaa iz yaqooluz zaalimoona in tattabi`oona illaa rajulam mas hooraa
📖 اردو ترجمہ
یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَىٰ إِذْ يَقُولُ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا

معانی الفاظ:

  • نَجْوَىٰ: سرگوشی کرنے والے، راز کی باتیں کرنے والے لوگ۔
  • مَّسْحُورًا: جس پر جادو کیا گیا ہو، جس کی عقل میں فتور آ گیا ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ جب کفارِ مکہ آپ کی تلاوتِ قرآن سنتے ہیں تو وہ کس نیت سے سنتے ہیں۔ وہ حق قبول کرنے اور ہدایت پانے کے لیے نہیں سنتے، بلکہ مذاق اڑانے، طعنے دینے اور دل میں کفر و عناد رکھتے ہوئے سنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس باطل مقصد سے پوری طرح باخبر ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ ان کی سرگوشیوں کا بھی ذکر فرماتا ہے، جب وہ آپس میں چپکے چپکے مشورے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہے اور اس کی عقل میں فتور آ گیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ ان کے اس الزام کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ خود ظالم ہیں، انہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے، کیونکہ وہ روشن حق کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہیں کر رہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، لیکن پھر بھی آپ کو جادو زدہ کہہ کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ حق کو قبول کرنے کے لیے دل صاف اور نیت سچی ہونی چاہیے۔ جو لوگ حق سنتے ہیں لیکن ضد اور تکبر کی وجہ سے اسے رد کر دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی حالت خوب جانتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو سمجھ کر سنیں، غور و فکر کریں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ قرآن ہی وہ کتاب ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی تک پہنچا سکتی ہے۔ آج بھی جو لوگ قرآن کو پس پشت ڈالتے ہیں یا اس کا مذاق اڑاتے ہیں، وہ اسی ظلم کا شکار ہیں جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 45-49 — اسراء

45وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا
اور جب قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کر دیتے ہیں
46وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَىٰ أَدْبَارِهِمْ نُفُورًا
اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں
47نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَىٰ إِذْ يَقُولُ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا
یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے
48انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پاسکتے
49وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا
اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیوں اور چُور چُور ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہو کر اُٹھیں گے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
47آیت

ترجمہ — اسراء 47

سورہ اسراء آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس…

سورہ آیت 47/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں