طہ · 114/135
ترجمہ تلفظ — طہ
فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ۝١١٤
Fata`aalal laahul Malikul Haqq; wa laa ta`jal bil Quraani min qabli ai yuqdaaa ilaika wahyuhoo wa qur Rabbi zidnee `ilmaa
📖 اردو ترجمہ
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے۔ اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَتَعَالَى: اللہ پاک بلند و برتر ہے، ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔
  • الْمَلِكُ الْحَقُ: وہ بادشاہ جو حقیقی اور سچا ہے، جس کی بادشاہت میں کوئی شک نہیں۔
  • لَا تَعْجَلْ: جلدی نہ کرو۔
  • یُقْضَىٰ: مکمل کیا جائے، ختم کیا جائے۔
  • زِدْنِی عِلْمًا: مجھے علم میں اضافہ عطا فرما۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ ہر نقص، ہر عیب اور ہر اس چیز سے پاک اور بلند ہے جو مشرکین اس کے بارے میں کہتے ہیں۔ وہی حقیقی بادشاہ ہے، جس کی حکومت اور سلطنت پر کوئی زور نہیں چلا سکتا، اس کا وعدہ سچا ہے، اس کا عذاب سچا ہے، اور اس کی ہر بات حق ہے۔ اس کی ذات ہر اس چیز سے منزّہ ہے جو ظالم اور جابر بادشاہوں میں پائی جاتی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اہم ہدایت دیتا ہے کہ قرآن مجید کے نزول کے وقت جبرائیل علیہ السلام کی قراءت سے پہلے جلدی نہ کریں، بلکہ جبرائیل علیہ السلام کے مکمل کرنے کا انتظار کریں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ وحی کے وقت خوفِ نسیان کی وجہ سے جبرائیل کے ساتھ ساتھ پڑھنے میں جلدی فرماتے تھے۔ اس لیے اللہ نے حکم دیا کہ جبرائیل جب وحی مکمل کر لیں، تب آپ اسے پڑھیں۔

آخر میں اللہ تعالیٰ آپ کو سکھاتا ہے کہ یہ دعا کریں: "اے میرے رب! مجھے علم میں اضافہ عطا فرما۔" یہ دعا ہر مسلمان کے لیے بہترین دعا ہے، کیونکہ علم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے، اس کی عظمت کا احساس دلاتی ہے، اور اس کی عبادت میں خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:

  1. اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص سے پاک ہے، اس لیے ہمیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور اس کی بادشاہت کے سامنے سر جھکانا چاہیے۔
  2. علم حاصل کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ سمجھ کر، غور و فکر کے ساتھ علم حاصل کرنا چاہیے۔
  3. یہ دعا ہر وقت، ہر جگہ، ہر حالت میں کرنی چاہیے، کیونکہ علم کی کوئی انتہا نہیں، اور جتنا علم بڑھتا ہے، اتنا ہی اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔
  4. قرآن مجید کو سیکھنے اور سمجھنے میں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے، کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے، جسے سمجھنے کے لیے توجہ اور سکون ضروری ہے۔

یہ دعا ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے، خاص طور پر طلبہ علم کے لیے، کیونکہ یہ علم کی برکت اور اضافے کی دعا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اللہ سے ہمیشہ علم میں اضافے کی درخواست کرتے رہیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 112-116 — طہ

112وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا
اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا
113وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا
اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کردے
114فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے۔ اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے
115وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَىٰ آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا
اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا
116وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو سب سجدے میں گر پڑے مگر ابلیس نے انکار کیا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
114آیت

ترجمہ — طہ 114

سورہ طہ آیت 114 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے۔ اور…

سورہ آیت 114/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 112–116. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں