ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- کلمۃ: حکمت اور فیصلہ۔
- سبقت: پہلے صادر ہو چکی۔
- لزاماً: لازم و واجب، نہ ٹلنے والا عذاب۔
- اجل مسمّی: مقررہ وقت، جو اللہ کے علم میں متعین ہے۔
تفسیر:
اے نبی! اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک حکمت بھرا فیصلہ پہلے صادر نہ ہو چکا ہوتا، اور ایک مقررہ وقت (قیامت) معین نہ ہوتا، تو ان کافروں پر عذاب دنیا ہی میں نازل ہو کر انہیں ہلاک کر دیتا، کیونکہ وہ اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اس کے مستحق ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب میں مبتلا نہیں کرتا جب تک ان پر حجت قائم نہ کر دے، اور انہیں موقع نہ دے دے۔ یہی وجہ ہے کہ عذاب کو مؤخر کر کے ایک مقررہ وقت (قیامت) تک کے لیے ٹال دیا گیا ہے۔
یہ آیت مومنوں کے لیے بڑی تسلی اور اطمینان کا باعث ہے کہ اللہ تعالیٰ جلدی عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کرتا، بلکہ اپنی رحمت اور حکمت سے لوگوں کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لیں اور راہِ راست پر آ جائیں۔ ساتھ ہی یہ کافروں کے لیے ایک پوشیدہ warning ہے کہ اللہ کی مہلت کو غفلت اور ڈھٹائی کا ذریعہ نہ بنائیں، کیونکہ جب مقررہ وقت آ جائے گا تو کوئی چیز انہیں عذاب سے نہیں بچا سکے گی۔
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت (تاخیرِ عذاب) دراصل اس کی رحمت کا تقاضا ہے، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ بندے اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں اور اپنی زندگیاں سنوار لیں۔ قرآن مجید میں بارہا یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ صابر ہے اور اپنے بندوں پر عذاب جلدی نازل نہیں کرتا، تاکہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کے فیصلوں میں حکمت ہوتی ہے، چاہے وہ ہماری سمجھ میں نہ آئے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھیں، اس کی مہلت کو غنیمت جانیں اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ آخرت کا عذاب اس دنیا کے عذاب سے کہیں زیادہ سخت اور دائمی ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کی نعمتوں اور مہلت کا صحیح استعمال کریں۔ آمین۔
📜 آیت 127-131 — طہ
ترجمہ — طہ 129
سورہ طہ آیت 129 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے…سورہ آیت 129/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 127–131. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








