ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حِبَالُهُمْ: ان کی رسیاں
- عِصِيُّهُمْ: ان کی لاٹھیاں (عصا کی جمع)
- يُخَيَّلُ إِلَيْهِ: ان کے خیال میں لایا جاتا تھا، وہم پیدا کیا جاتا تھا
- تَسْعَى: دوڑتی ہوئی چلتی ہیں
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ساحروں سے کہا کہ پہلے تم اپنا جادو دکھاؤ، تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں ڈال دیں۔ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ان کے اس عمل کا اثر یہ ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کو ان کی سحر کی وجہ سے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر دوڑ رہی ہیں۔ یہ محض ایک ظاہری وہم اور خیال تھا جو اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے پیدا کیا، تاکہ حق و باطل کا فرق واضح ہو اور لوگوں کے سامنے سچائی کھل کر سامنے آئے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ ساحروں کا جادو صرف آنکھوں کو دھوکہ دینے والا تھا، حقیقت میں وہ رسیاں اور لاٹھیاں ویسی ہی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اس کیفیت سے گزرنے دیا تاکہ وہ اپنے رب پر مکمل بھروسہ رکھیں اور پھر اللہ کی قدرت کا کمال دکھایا جائے۔ اس میں ہمارے لیے بھی بہت بڑا سبق ہے کہ باطل کبھی کتنا ہی پُرکشش اور طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، آخرکار اللہ کا حق ہی غالب آتا ہے۔
مومن کو چاہیے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ رکھے، کیونکہ اللہ ہی حقیقی مددگار ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے رب کی قدرت پر مکمل یقین تھا، ویسے ہی ہمیں بھی ہر معاملے میں اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے باطل کتنا ہی بڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کی مدد ضرور فرماتا ہے۔
📜 آیت 64-68 — طہ
ترجمہ — طہ 66
سورہ طہ آیت 66 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : موسیٰ نے کہا نہیں تم ہی ڈالو۔ (جب انہوں نے…سورہ آیت 66/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 64–68. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








