ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَأَوْجَسَ: دل میں چھپایا، اپنے دل میں محسوس کیا۔
- خِيفَةً: خوف، ڈر۔
تفسیر آیت:
جب ساحروں نے اپنی رسیاں اور عصیاں پھینکیں تو ان کے جادو کے زور سے موسٰی علیہ السلام کو ایسا محسوس ہوا کہ زمین پر سانپ دوڑ رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر موسٰی علیہ السلام کے دل میں ایک فطری خوف پیدا ہوا۔ یہ خوف اس لیے تھا کہ وہ ایک انسان تھے اور انسان کا فطری تقاضا ہے کہ جب وہ اس طرح کے خطرناک منظر دیکھے تو اس کے دل میں ڈر پیدا ہو۔ لیکن یہ خوف ان کے ایمان اور یقین پر غالب نہیں آیا، بلکہ یہ محض ایک بشری کیفیت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تسلی دینے کے لیے فوراً یہ وحی بھیجی کہ ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔
یہاں سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ خوف محسوس کرنا کوئی عیب نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنے خوف کے باوجود اللہ پر بھروسہ رکھے اور اس کے حکم پر عمل کرے۔ موسٰی علیہ السلام نے خوف محسوس کیا، لیکن وہ ڈٹے رہے اور اللہ کے حکم کے منتظر رہے۔ یہی توکل اور یقین کی بلندی ہے۔
ہمیں بھی اپنی زندگی میں جب مشکلات اور خطرات کا سامنا ہو تو خوفزدہ ہونے کے باوجود اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کی طاقت ہر جادو اور ہر باطل طاقت پر غالب آتی ہے، بشرطیکہ ہم اللہ پر کامل یقین رکھیں۔
📜 آیت 65-69 — طہ
ترجمہ — طہ 67
سورہ طہ آیت 67 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اُس وقت) موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیاسورہ آیت 67/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 65–69. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








