ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَوَاسِيَ: پہاڑ، جو زمین کو جما کر رکھنے والے ہوں۔
- تَمِيدَ: ڈگمگانا، لرزنا، حرکت کرنا۔
- فِجَاجًا: کشادہ راستے، وسیع گزرگاہیں۔
- سُبُلًا: راستے (یہ لفظ "فِجاج" کی تفسیر ہے)۔
- يَهْتَدُونَ: راہ پانا، اپنی منزل تک پہنچنا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کا ایک عظیم نمونہ زمین میں رکھا ہے۔ اس نے زمین میں بھاری اور مضبوط پہاڑ پیدا کیے، جو اسے ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنے اوپر بسنے والے مخلوقات کو لے کر ڈگمگائے نہیں، نہ لرزے اور نہ ہی انہیں نقصان پہنچے۔ یہ پہاڑ زمین کے لیے میخوں کی طرح ہیں، جو اسے استحکام دیتے ہیں۔
پھر اللہ نے انہیں پہاڑوں میں اور زمین کے اندر کشادہ راستے اور وسیع گزرگاہیں بنائیں، تاکہ لوگ اپنے سفر میں آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں، اپنی معیشت اور روزی کے حصول کے لیے جدوجہد کر سکیں، اور اپنے مقاصد تک پہنچ سکیں۔
یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ لوگ غور و فکر کریں اور راہِ ہدایت پائیں۔ جب وہ ان کشادہ راستوں پر چلتے ہیں اور زمین کے اس نظامِ شاندار کو دیکھتے ہیں، تو ان کے دلوں میں یہ بات پیدا ہونی چاہیے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے، وہی سب کچھ پیدا کرنے والا اور سنبھالنے والا ہے۔ اس طرح وہ اپنے رب کی توحید کو پہچانیں اور اسی کی عبادت کریں۔
یہ اللہ کی رحمت اور حکمت کا کمال ہے کہ اس نے زمین کو ہموار اور مستحکم بنایا، پہاڑوں کو جما کر رکھا، اور راستوں کو کشادہ کیا تاکہ انسان اپنی زندگی کی ضروریات پوری کرے اور اپنے خالق کو جان کر اس کی بندگی اختیار کرے۔ یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہی واحد معبود ہے، جس کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
📜 آیت 29-33 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 31
سورہ انبیاء آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے…سورہ آیت 31/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








