ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رحمتنا: ہماری خاص رحمت، جو مخلص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔
- صالحین: نیک اور صالح لوگ، جو اللہ کے احکام پر عمل کرنے والے ہوں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر فرما رہے ہیں، جنہیں اللہ نے اپنی خاص رحمت میں داخل فرمایا۔ یہ رحمت ان کے لیے اس وقت ظاہر ہوئی جب اللہ نے انہیں اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر نازل ہوا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام اس قوم میں رہتے تھے جو بدکاری اور برائیوں میں مبتلا تھی، لیکن انہوں نے اپنے آپ کو اس گندگی سے پاک رکھا اور اللہ کی اطاعت پر قائم رہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا، یعنی انہیں اپنے خاص فضل و کرم سے نوازا، انہیں عذاب سے بچایا اور انہیں اپنے نیک بندوں میں شمار کیا۔ یہ رحمت صرف دنیا کی نجات تک محدود نہیں تھی، بلکہ آخرت کی کامیابی بھی اس میں شامل تھی۔
"إنه من الصالحين" یعنی حضرت لوط علیہ السلام ان لوگوں میں سے تھے جو اللہ کے احکام پر عمل کرتے، اس کی نافرمانی سے بچتے اور اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھالتے تھے۔ صالح ہونے کا مطلب صرف ظاہری عبادت نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی، اخلاق کی بلندی اور اللہ کے ساتھ تعلق کی مضبوطی بھی ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت انہیں ملتی ہے جو صالح بن کر جیتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی ہم حضرت لوط علیہ السلام کی سیرت سے سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ برے ماحول میں رہ کر بھی انسان نیکی پر قائم رہ سکتا ہے، اگر اس کا ایمان مضبوط ہو اور وہ اللہ پر بھروسہ رکھے۔ اللہ اپنے صالح بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، وہ انہیں ہر مشکل سے نکالتا ہے اور انہیں اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو صالحین کے راستے پر ڈالیں، تاکہ ہم بھی اللہ کی اس خاص رحمت کے مستحق بن سکیں۔
📜 آیت 73-77 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 75
سورہ انبیاء آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور انہیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا۔ کچھ…سورہ آیت 75/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








