ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَبِثْتُمْ: تم دنیا میں رہے۔
- قَلِیلًا: بہت تھوڑا عرصہ۔
- لَوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ: اگر تم جانتے ہوتے (تو ایسا جواب نہ دیتے)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے جواب کا ذکر فرما رہے ہیں جو جہنم میں داخل ہو کر یہ سوال کریں گے کہ ہمیں کتنی مدت رہنا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تم دنیا میں بہت ہی تھوڑا عرصہ رہے، اگر تم یہ جانتے ہوتے کہ تمہارا قیامِ دنیا کتنا مختصر ہے اور آخرت کا عرصہ کتنا طویل ہے، تو تم دنیا کی لذتوں اور آرام کو آخرت کی ابدی نعمتوں پر ترجیح نہ دیتے۔ تمہاری زندگی دنیا میں چند دنوں پر مشتمل تھی، اور اگر تم نے ان چند دنوں میں اللہ کی اطاعت کی ہوتی، تو آج تمہیں جنت کی دائمی نعمتیں ملتیں۔ لیکن تم نے ان مختصر دنوں کو گناہوں اور غفلت میں گزار دیا، اور اب تمہیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے، جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ عقل مند وہی ہے جو اس مختصر زندگی کو آخرت کی ابدی کامیابی کے لیے استعمال کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے یہ علم عطا کیا ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، یہاں کیوں ہیں، اور کہاں جانا ہے۔ اگر ہم اس علم پر عمل کریں تو ہماری زندگی دنیا میں بھی پرسکون ہوگی اور آخرت میں بھی کامیاب ہوں گے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، اس نے ہمیں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ جب تک ہم زندہ ہیں، ہم اپنے اعمال سنوار سکتے ہیں اور اللہ کی رحمت حاصل کر سکتے ہیں۔ آئیے ہم اس مختصر سی زندگی کو اللہ کی اطاعت، عبادت، اور نیک اعمال میں گزاریں تاکہ ہم آخرت کی ابدی کامیابی حاصل کر سکیں۔
📜 آیت 112-116 — مؤمنون
ترجمہ — مؤمنون 114
سورہ مؤمنون آیت 114 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے۔…سورہ آیت 114/118 — مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مؤمنون سنیں, مؤمنون ترجمہ, مؤمنون mp3, مؤمنون pdf. آیت 112–116. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








