ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَصَانِعَ: مضبوط قلعے، مضبوط عمارتیں، یا پانی کے حوض (زیرِ زمین پانی کے ذخیرے)۔
- لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ: گویا تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی نہیں مرو گے۔
تفسیر:
اس آیت میں قومِ عاد کے حالات بیان ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ناشکری اور غرور بھری روش پر گرفت فرماتا ہے کہ وہ دنیا میں ایسی مضبوط اور پائیدار عمارتیں، قلعے اور حصون تعمیر کرتے تھے، گویا وہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ وہ اپنی طاقت اور دولت پر اترا کر ایسی جگہیں بناتے تھے جو ان کی عظمت کا نشان بنیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موت ہر زندہ کو آنی ہے اور دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔
یہ ان کی غفلت اور کبر کا ثبوت تھا کہ وہ آخرت کو بھول کر صرف دنیا کی تعمیر اور آرائش میں مشغول ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی عقل کو اس بات پر استعمال نہیں کیا کہ اس دنیا کی زندگی عارضی ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ اگر وہ اپنی اس محنت اور طاقت کو اللہ کی اطاعت اور آخرت کی تیاری میں صرف کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیا کی ظاہری ترقی، بڑی بڑی عمارتیں اور مضبوط قلعے اگر اللہ کی یاد سے غافل کر دیں اور ہمیں یہ وہم دیں کہ ہم ہمیشہ رہیں گے، تو یہ ہمارے لیے نقصان کا باعث ہیں۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کو یاد رکھے، اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارے، اور یہ سمجھے کہ یہ دنیا ایک آزمائش کی جگہ ہے، ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں۔ اللہ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم اس دنیا سے آخرت کے لیے زادِ راہ حاصل کریں، نہ کہ صرف دنیا کی تعمیر اور فخر میں مشغول رہیں۔ یاد رکھیں، موت کا پیالہ ہر ایک کو چکھنا ہے، اور اصل کامیابی وہ ہے جو اللہ کے ہاں ملے گی۔
📜 آیت 127-131 — شعراء
ترجمہ — شعراء 129
سورہ شعراء آیت 129 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گےسورہ آیت 129/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 127–131. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Wednesday, August 19, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








