ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قِسْطاس: میزان، ترازو، یا کوئی بھی ایسا پیمانہ جس سے تولا جائے۔
- مُسْتَقِیم: سیدھا، برابر، ٹھیک، جس میں کوئی کجی یا کمی بیشی نہ ہو۔
تفسیر:
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو جو سب سے بڑی نصیحت کی، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب تم تولو تو سیدھے اور درست ترازو سے تولا کرو۔ یعنی نہ تول میں کمی کرو اور نہ تول میں زیادتی کرو، بلکہ انصاف اور عدل کے ساتھ پورا پورا حق دو۔ یہ حکم صرف تجارت تک محدود نہیں، بلکہ ہر معاملے میں عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ جب بھی کسی کو تول کر دو، تو اس کا پورا حق دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں انصاف کا حکم دیا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے میں امانت داری اور دیانت داری کا ماحول قائم کرو۔ جب انسان تول میں کمی کرتا ہے، تو وہ دراصل اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اور لوگوں کے حقوق غصب کرتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے کاروبار اور معاملات میں مکمل دیانت داری اختیار کرے، کیونکہ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔
دعوتی پہلو:
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی عدل و انصاف کا درس دیتا ہے۔ جب ہم تول اور ناپ میں پوری ایمانداری کریں گے، تو نہ صرف ہمارا کاروبار بابرکت ہوگا، بلکہ ہمارے معاشرے میں اعتماد اور محبت بھی فروغ پائے گی۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو انصاف کرتے ہیں۔ آئیے ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف کو اپنائیں اور اللہ کی رحمت اور برکت کے حقدار بنیں۔
📜 آیت 180-184 — سورہ شعراء
ترجمہ — شعراء 182
سورہ شعراء آیت 182 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کروسورہ آیت 182/227 — سورہ شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ شعراء سنیں, سورہ شعراء ترجمہ, سورہ شعراء mp3, سورہ شعراء pdf. آیت 180–184. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








