ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَنَزَّلَتْ: نازل ہوئیں، اترتیں۔
- الشَّیَاطِین: شیاطین، جنوں میں سے سرکش اور بدکار مخلوق۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے الزام کا رد فرمایا ہے جو کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر شیاطین قرآن لے کر اترتے ہیں، اور یہ کلامِ الٰہی انہیں شیاطین کی طرف سے پہنچایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس باطل دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ قرآن شیاطین کے ساتھ نازل نہیں ہوا، نہ وہ اسے لے کر اتر سکتے ہیں اور نہ ان کی یہ مجال ہے کہ وہ ایسا کریں۔
شیاطین تو آسمان کی خبریں سننے سے بھی محروم ہیں، انہیں ہر طرف سے شہابِ ثاقب (آگ کے گولے) مار کر بھگایا جاتا ہے، چنانچہ وہ وحیِ الٰہی کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔ یہ قرآن تو اللہ رب العزت کا کلام ہے جو جبرائیل امین علیہ السلام کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ مبارک پر نازل ہوا، اور یہ اتنا بلند اور پاک کلام ہے کہ شیاطین کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔
یہ آیت ہمیں ایک عظیم حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ قرآنِ کریم ہدایت، نور اور رحمت کا سرچشمہ ہے، اور جو لوگ اس پر الزام لگاتے ہیں وہ حقیقت سے اندھے ہیں۔ اہلِ ایمان کے لیے اس میں بڑی تسلی اور اطمینان ہے کہ ان کا دین حق ہے، اور ان کی کتاب آسمانی ہے، جو ہر قسم کی شیطانی مداخلت سے پاک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس عظیم کتاب کو تلاوت کریں، اس پر غور کریں اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیاں سنواریں، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
📜 آیت 208-212 — شعراء
ترجمہ — شعراء 210
سورہ شعراء آیت 210 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئےسورہ آیت 210/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 208–212. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








