ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَلْقُوا: پھینکو، ڈالو۔
- مَا أَنتُم مُّلْقُونَ: جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔
تفسیر آیت:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے ساحروں کے اس چیلنج کے جواب میں، جب انہوں نے کہا تھا کہ "آپ پھینکیں یا ہم پھینکیں"، انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "تم پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے۔"
یہ فرمانِ موسوی درحقیقت ان کے قلبی سکون، اللہ پر کامل بھروسے اور نصرتِ الٰہی پر یقینِ محکم کا مظہر تھا۔ وہ بالکل پریشان نہیں تھے، بلکہ انہوں نے خود ساحروں کو پہل کرنے کی دعوت دی تاکہ لوگوں کے سامنے حق و باطل کا فیصلہ کھل کر ہو جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ سحر و جادو نہیں، بلکہ معجزہ اور وحیِ الٰہی ہے۔
اس اندازِ گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ اہلِ حق کو چاہیے کہ وہ باطل کے مقابلے میں پوری جرأت اور اطمینانِ قلب کے ساتھ پیش آئیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے نہ صرف اپنی برتری کا اظہار کیا بلکہ اس موقعے کو دعوتِ توحید کے لیے بھی استعمال کیا، تاکہ ساحر اور حاضرین غور کریں کہ اصل طاقت اللہ کی ہے، نہ کہ جادو کی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ساحروں نے اپنا سارا سامانِ جادو اکٹھا کیا، رسیاں اور عصا پھینکے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تائید فرمائی اور حق باطل پر غالب آیا۔ اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو کبھی باطل کی بڑائی سے ڈرنا نہیں چاہیے، بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہنا چاہیے، کیونکہ عاقبت صرف متقیوں کے لیے ہے۔
📜 آیت 41-45 — شعراء
ترجمہ — شعراء 43
سورہ شعراء آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے…سورہ آیت 43/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








