ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْفَتْحُ: قضاء و فیصلہ، یعنی وہ فیصلہ جو حق و باطل کے درمیان کیا جائے گا۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد فتح مکہ بھی ہے، لیکن سیاق و سباق کے اعتبار سے یہاں قیامت کا فیصلہ یا عذاب کا نزول مراد ہے۔
- صَادِقِينَ: سچے، یعنی اپنے دعوے میں سچے ہوں۔
تفسیر:
یہ آیت ان کافروں اور مشرکوں کا حال بیان کر رہی ہے جو حق کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور طنز و استہزاء کے انداز میں کہتے ہیں: "وہ فیصلہ کب آئے گا؟ وہ قیامت یا عذاب کب نازل ہوگا جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو؟ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟" وہ اس لیے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ قیامت اور حساب کتاب کو محال سمجھتے تھے، اور اپنے اس رویے سے وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت کو جھٹلانا چاہتے تھے۔
یہ استعجال دراصل ان کی سرکشی اور بے یقینی کا مظہر تھا، کیونکہ وہ عذاب کو دور سمجھتے تھے اور اپنے دلوں میں اسے ناممکن خیال کرتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ یہ فیصلہ یقیناً آنے والا ہے، اور جب وہ آئے گا تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے ماننے والوں کو صبر اور یقین کے ساتھ اپنے راستے پر قائم رہنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنا ہی طعنہ دیں یا استعجال کریں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اس کا فیصلہ ضرور آئے گا۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور آخرت کے دن کو یاد کرے، کیونکہ یہی وہ دن ہے جب ہر ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ملے گا اور ہر مخلص کو اس کی جزا دی جائے گی۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے وعدوں پر پورا یقین رکھیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔
📜 آیت 26-30 — سجدہ
ترجمہ — سجدہ 28
سورہ سجدہ آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ…سورہ آیت 28/30 — سجدہ السجدة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سجدہ سنیں, سجدہ ترجمہ, سجدہ mp3, سجدہ pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








