ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عَجُوزًا: بوڑھی عورت، یہاں مراد حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی ہے۔
- فِي الْغَابِرِينَ: باقی رہنے والوں میں، یعنی عذاب میں پیچھے رہ جانے والوں میں۔
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے نوازا اور انہیں رسول بنا کر بھیجا۔ جب ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر نازل ہوا، تو ان کے گھر والوں میں سے صرف ایک بوڑھی عورت مستثنیٰ تھی — اور وہ ان کی بیوی تھی — جو عذاب میں باقی رہنے والوں میں شامل رہی۔ وہ اپنے شوہر کے ایمان پر قائم نہ رہی، بلکہ اپنی قوم کے کفر اور نافرمانی میں شریک رہی، اس لیے وہ بھی اسی عذاب میں ہلاک ہوئی جو قوم لوط پر آیا۔
یہ واقعہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے کہ نجات کا تعلق صرف اور صرف ایمان اور عمل صالح سے ہے، نہ کہ کسی نبی یا بزرگ سے رشتہ داری سے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نبی کی زوجہ ہونے کے باوجود اپنے کفر کی وجہ سے عذاب سے نہ بچ سکی۔ یہ اللہ کا عدل ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ناحق نہیں کرتا، اور ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے اعمال کو سنوارنا چاہیے، کیونکہ قیامت کے دن نہ کوئی رشتہ کام آئے گا اور نہ ہی نسب۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھر والوں کو بھی نیکی کی تلقین کریں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، تاکہ وہ بھی اس راستے پر چلیں جو اللہ کو پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے، اس لیے ہمیں اس کی اطاعت میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
📜 آیت 133-137 — صافات
ترجمہ — صافات 135
سورہ صافات آیت 135 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھیسورہ آیت 135/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 133–137. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








