ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَأَمْلَأَنَّ: میں ضرور بھر دوں گا۔
- جَهَنَّمَ: دوزخ، جہنم۔
- مِنكَ: تجھ سے (اے ابلیس!)۔
- وَمِمَّن تَبِعَكَ: اور ان لوگوں سے جو تیری پیروی کریں۔
- مِنْهُمْ: ان میں سے (یعنی بنی آدم میں سے)۔
- أَجْمَعِينَ: سب کے سب، تمام۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں ابلیسِ لعین کو سخت ترین دھمکی دی ہے۔ جب ابلیس نے اپنے تکبر اور سرکشی کی وجہ سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر کہا کہ میں تیری مخلوق کو گمراہ کروں گا، تو اللہ رب العزت نے اسے جواب دیا کہ "حق میری طرف سے ہے، اور میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا" — یعنی میرا وعدہ سچا ہے، میری بات حق ہے، اور میں اپنے وعدے کے مطابق ضرور عمل کروں گا۔
پھر فرمایا: "میں ضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو تیری پیروی کریں گے" — یعنی اے ابلیس! تو اور تیری اولاد، اور بنی آدم میں سے جو بھی تیرے پیچھے چلے گا، کفر و شرک اور گناہوں کی راہ اختیار کرے گا، ان سب کو میں جہنم میں ڈال دوں گا۔ یہ اللہ کا قطعی اور حتمی فیصلہ ہے جو اس کی حکمت اور عدل کے مطابق ہے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نصیحت اور ڈر ہے کہ شیطان کا راستہ اختیار کرنے والوں کا انجام جہنم ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ مومنین کے لیے خوشخبری بھی ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو شیطان کے شر سے بچانے کا راستہ بھی بتایا ہے — اور وہ ہے تقویٰ، ایمان، اور اللہ کی اطاعت۔ شیطان اگرچہ بڑا دشمن ہے، لیکن اللہ کی پناہ مانگنے والے اور اس کی کتاب و سنت پر عمل کرنے والوں پر شیطان کا کوئی زور نہیں چل سکتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے وسوسوں سے بچائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 83-87 — ص
ترجمہ — ص 85
سورہ آیت 85/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 83–87. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








