زمر · 52/75
ترجمہ تلفظ — زمر
أَوَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُؤۡمِنُونَ  ۝٥٢
Awalam ya`lamooo annal laaha yabsutur rizqa limai yashaaa`u wa yaqdir; inna fee zaalika la Aayaatil liqamai yu`minoon
📖 اردو ترجمہ
کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یَبْسُطُ الرِّزْقَ: رزق کشادہ کرنا، وسعت دینا
  • وَیَقْدِرُ: تنگی کرنا، محدود کرنا

تفسیر:

کیا ان مشرکوں نے یہ نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے؟ یہ وسعت اور تنگی کسی کی فضیلت یا رسوائی کی دلیل نہیں، بلکہ یہ اللہ کی حکمت اور آزمائش کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی کسی نیک بندے کو رزق کی کشادگی دیتا ہے تاکہ وہ شکر ادا کرے، اور کبھی کسی صالح بندے پر تنگی ڈالتا ہے تاکہ وہ صبر کا مظاہرہ کرے۔ اسی طرح کبھی کسی گنہگار کو وسعت دے کر آزماتا ہے کہ وہ کفرانِ نعمت کرتا ہے یا شکر، اور کبھی کسی بدکار پر تنگی کر کے دیکھتا ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔

یہ وسعت اور تنگی کا نظام کسی انسان کے ایمان یا کفر کا پیمانہ نہیں، بلکہ یہ اللہ کی حکمت کا ایک راز ہے۔ بہت سے لوگ جو دنیا میں مال و دولت سے مالا مال نظر آتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہوتے، اور بہت سے غریب اور تنگ دست لوگ اللہ کے ہاں بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی کو رزق کی فراوانی دیکھ کر حیران نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی کسی کی تنگی دیکھ کر اسے حقیر سمجھنا چاہیے۔

یقیناً اس نظامِ رزق میں، اس کی کشادگی اور تنگی میں، اللہ کی قدرت اور حکمت کی بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے فیصلوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ایمان والے ہی ان نشانیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہے عطا کرے اور جس سے چاہے روک لے۔ وہ کشادگی پر شکر کرتے ہیں اور تنگی پر صبر کرتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اللہ جو کرتا ہے بھلے کے لیے کرتا ہے۔

میرے مسلمان بھائیو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنی نگاہیں اللہ کے فضل اور رحمت پر رکھیں، نہ کہ لوگوں کے مال و دولت پر۔ دنیا کی دولت نہ تو ایمان کی دلیل ہے اور نہ ہی اس کی کمی کسی کی بے قدری کی علامت۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے، اور اصل کامیابی یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہیں۔ جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لے، اس کا دل دنیا کی حرص سے پاک ہو جاتا ہے، اور وہ ہر حالت میں اللہ کا شکر گزار اور صابر بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ ہمیں یہ سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کرے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 50-54 — زمر

50قَدۡ قَالَهَا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ 
جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا
51فَأَصَابَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْۚ وَٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡ هَٰٓؤُلَآءِ سَيُصِيبُهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْ وَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ 
ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔ اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے۔ اور وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے
52أَوَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُؤۡمِنُونَ 
کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
53۞ قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ 
(اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے
54وَأَنِيبُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَأَسۡلِمُواْ لَهُۥ مِن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَكُمُ ٱلۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ 
اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو، اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی
زمرقرآن فہرست
75آیت
مکیRevelation
52آیت

ترجمہ — زمر 52

سورہ آیت 52/75 — زمر الزمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زمر سنیں, زمر ترجمہ, زمر mp3, زمر pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں