Maa qultu lahum illaa maaa amartanee bihee ani`budul laaha Rabbeee wa Rabbakum; wa kuntu `alaihim shaheedam maa dumtu feehim falammaa tawaffaitanee kunta Antar Raqeeba `alaihim; wa Anta `alaa kulli shai`in Shaheed
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
من به آنان جز آنچه تو فرمانم داده بودى نگفتم. گفتم كه اللّه پروردگار مرا و پروردگار خود را بپرستيد. و من تا در ميانشان بودم نگهبان عقيدتشان بودم و چون مرا ميرانيدى تو خود نگهبان عقيدتشان گشتى. و تو بر هر چيزى آگاهى.
میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
شہیداً: گواہ، نگران اور مشاہدہ کرنے والا۔
ما دمت فیہم: جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا۔
توفیتنی: جب تو نے مجھے (اپنی طرف) اٹھا لیا، یعنی میری مدتِ حیات پوری کر کے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔
رقیب: نگہبان، نگران، جو ہر چیز کا علم رکھتا ہو۔
تفسیر:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اپنی امت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا مؤقف پیش کریں گے اور کہیں گے: "اے میرے رب! میں نے ان لوگوں سے کوئی بات نہیں کہی سوائے اس کے جو تو نے مجھے حکم دیا تھا۔" یعنی میرا پیغام صرف وہی تھا جو تیری وحی اور تیرے حکم کے مطابق تھا۔ پھر اس حکم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمائیں گے: "کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔" یعنی میں نے انہیں توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا، بالکل اسی طرح جیسے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا مشن تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام مزید فرمائیں گے: "اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا۔" یعنی جب تک میں دنیا میں رہا، میں ان کے اعمال اور اقوال کا مشاہدہ کرتا رہا اور انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن "جب تو نے مجھے اٹھا لیا" یعنی میری مدتِ حیات پوری کر کے مجھے اپنی طرف اٹھا لیا، "تو پھر تو ہی ان کا نگران تھا۔" یعنی میرے بعد ان کے اعمال کی نگرانی تیرے ہی اختیار میں تھی، میں ان کے بعد کے حالات کا علم نہیں رکھتا۔ "اور تو ہر چیز پر گواہ ہے" یعنی اے اللہ! تیرے علم میں سب کچھ ہے، جو میں نے کہا اور جو انہوں نے میرے بعد کیا، سب تیرے سامنے واضح ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے ہمیشہ صرف اللہ کا پیغام پہنچایا، کوئی ذاتی بات نہیں کہی۔ ان کی زندگی مکمل طور پر اللہ کے حکم کے تابع تھی۔ آج بھی ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور صرف اللہ کی عبادت کریں، کیونکہ یہی تمام انبیاء کا اصل پیغام ہے۔ نیز یہ آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگران اور گواہ ہے، اس لیے ہمیں ہر عمل میں اس کی نگرانی کا احساس رکھنا چاہیے۔ جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، وہ کبھی گناہوں کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں اور اللہ کی رضا کے لیے زندگی گزاریں، کیونکہ آخرت میں ہر شخص سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔
خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا
اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے
میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے
خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآباد ان میں بستے رہیں گے خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں یہ بڑی کامیابی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔