ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَخَافُ: میں ڈرتا ہوں۔
- عَصَيْتُ: میں نے نافرمانی کی۔
- عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ: بڑے دن (قیامت) کا عذاب۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان مشرکین سے فرما دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور آپ سے بھی ایسا کرنے کی توقع رکھتے ہیں: "میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں، اس کے حکم کی خلاف ورزی کروں، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراؤں، یا اس کے بتائے ہوئے فرائض میں سے کوئی کام چھوڑ دوں، تو مجھے ڈر ہے کہ قیامت کے اس بڑے دن مجھ پر عذاب نازل ہوگا۔"
یہ فرما کر آپ نے واضح کر دیا کہ رسول ہونے کے باوجود آپ اپنے رب کے سامنے عاجزی اور خشوع رکھتے ہیں، اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یہی حال مومن کا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کی امید رکھتا ہے اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خوفِ خدا انسان کے ایمان کی نشانی ہے۔ جس شخص کو اپنے رب کے سامنے جواب دہی کا احساس ہو، وہ کبھی گناہوں میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اللہ کا عذاب صرف قیامت کے دن ہی نہیں، بلکہ دنیا میں بھی برے انجام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر عمل میں اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھیں، کیونکہ جس نے اللہ سے ڈر کر زندگی گزاری، اللہ اسے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے گا اور جنت کی نعمتوں سے نوازے گا۔ یہ خوف محض ڈر نہیں، بلکہ محبت کی ایک شکل ہے جو بندے کو نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور برائی سے روکتی ہے۔ آئیے ہم بھی اپنے رب کے سامنے یہی عاجزی اختیار کریں اور اس کے عذاب سے بچنے کی فکر کریں، تاکہ ہماری آخرت سنور جائے۔
📜 آیت 13-17 — انعام
ترجمہ — انعام 15
سورہ انعام آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی…سورہ آیت 15/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








