جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُصْرَفْ: پھیر دیا جائے، دور کیا جائے۔
یَوْمَئِذٍ: اس دن، یعنی قیامت کے دن۔
رَحِمَهُ: اس پر رحم فرمایا۔
الْفَوْزُ الْمُبِینُ: واضح اور نمایاں کامیابی۔
تفسیرِ آیہ:
قیامت کے دن جب عذابِ الٰہی نازل ہونے والا ہوگا اور ہر طرف خوف و ہراس کا عالم ہوگا، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس شخص سے اس دن کا عذاب ٹال دیا گیا، یعنی اللہ نے اسے اس بھیانک عذاب سے بچا لیا، تو یقیناً اللہ نے اس پر رحم فرمایا۔ یہ عذاب سے نجات ہی وہ عظیم کامیابی ہے جو صاف اور واضح ہے، جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ یہ وہ فتح ہے جس سے بڑھ کر کوئی فتح نہیں، اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا تصور کیجیے، قیامت کا دن کتنا ہولناک ہوگا جب سارے انسان اکٹھے ہوں گے اور ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہے عذاب سے بچا لے۔ یہ اللہ کا فضل اور رحمت ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کو اس دن کے خوف سے نجات دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں، اللہ کی اطاعت کریں اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں۔ یاد رکھیں، یہ دنیا کی کوئی کامیابی اس عظیم کامیابی کے برابر نہیں ہو سکتی جو قیامت کے دن عذاب سے نجات کی صورت میں ملے گی۔ آئیے ہم سب اس عظیم کامیابی کے حصول کے لیے اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکامات کے مطابق ڈھالیں اور اپنے خالق و مالک کی رحمت کے امیدوار بنیں۔ اللہ ہمیں اس توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا
اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔