ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُنظَرین: اُن لوگوں میں سے جنہیں مہلت دی گئی ہو، یعنی جن کی موت کو مؤخر کر دیا گیا ہو۔
تفسیرِ آیت:
جب ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنے غرور و تکبر کی بنا پر آدم علیہ السلام کو کمتر جانا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے محروم کر دیا۔ اس پر ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ اسے قیامت تک زندہ رہنے کی مہلت دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی درخواست کو اپنی حکمت کے تحت قبول فرماتے ہوئے فرمایا: "بے شک تو اُن لوگوں میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے۔" یعنی اسے موت کی کوئی جلدی نہیں، بلکہ اس کی موت کا وقت ایک خاص مقررہ لمحے تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔
یہ مہلت اس لیے دی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا پورا ہو۔ یہ مہلت دراصل انسانوں کے لیے آزمائش کا سبب بنی، تاکہ واضح ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون ابلیس کے بہکاوے میں آ کر نافرمانی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس طرح نیک اور بد دونوں کے لیے اجر اور عذاب کا حق ثابت ہو جائے۔
یہ مہلت اس وقت تک ہے جب تک صور میں پہلی بار پھونکا نہ جائے گا، جب تمام مخلوقات کو موت آ جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہے گا جو ہمیشہ زندہ ہے۔ اس دن کے بعد کوئی مہلت نہیں ہوگی، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کامل ہے اور وہ ہر معاملے میں بہتر جانتا ہے۔ ابلیس کو مہلت دینا اس کی رحمت کا تقاضا نہیں تھا، بلکہ یہ انسانوں کے لیے امتحان کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس آزمائش میں کامیاب ہوں، اپنے نفس اور شیطان کے وسوسوں سے بچیں، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔ یاد رکھیں، یہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے، اور آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور ہدایت دی ہے تاکہ ہم سیدھے راستے پر چلیں اور اپنے خالق کی رضا حاصل کریں۔
📜 آیت 13-17 — اعراف
ترجمہ — اعراف 15
سورہ آیت 15/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








