اعراف · 7/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ ۖ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ ۝٧
Falanaqussanna `alaihim bi`ilminw wa maa kunnaa ghaaa`ibeen
📖 اردو ترجمہ
پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَلَنَقُصَّنَّ: ہم ضرور بیان کریں گے، سنائیں گے۔
  • بِعِلْمٍ: پورے علم کے ساتھ، جان بوجھ کر۔
  • غَائِبِینَ: غافل، غیر حاضر، سے دور۔

تفسیرِ آیہ:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے ان کے اعمال کا مکمل حساب لیں گے۔ ہم ان کے سامنے ان کے تمام اعمال بیان کریں گے جو انہوں نے دنیا میں کیے تھے، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، ظاہری ہوں یا پوشیدہ۔ یہ بیان محض اندازے یا گمان سے نہیں ہوگا، بلکہ ہمارے کامل اور مکمل علم کے ساتھ ہوگا۔ ہم ہر شخص کے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہیں، کوئی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہم کبھی اپنے بندوں سے غافل نہیں رہے، نہ دن میں نہ رات میں، نہ کسی لمحے میں۔ ہر شخص کا ہر عمل، ہر حرکت، ہر خیال ہمارے علم میں ہے۔ ہم کسی بھی وقت اپنے بندوں سے غائب نہیں ہیں، بلکہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں اور ان کے اعمال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیتِ مبارکہ میں ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت اور عبرت ہے۔ جب ہمیں یقین ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، ہماری ہر حرکت دیکھ رہا ہے، ہمارے ہر قول کو سن رہا ہے اور ہمارے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال پر نظر رکھیں۔ یہ احساس ہمارے اندر تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرتا ہے۔ جب ہم جانتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں دیکھ رہا ہے، تو ہم گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی عظمت اور اس کے علمِ محیط کا احساس دلاتی ہے، جس سے ہمارے دل میں اللہ کی محبت اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس یقین کے ساتھ زندگی گزاریں کہ ہمارا رب ہم سے کبھی غافل نہیں، اور ہر عمل کا حساب ہمیں دینا ہے۔ یہی احساس ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے میں مدد دیتا ہے اور ہمیں گناہوں سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 5-9 — اعراف

5فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے
6فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے
7فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ ۖ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے
8وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں
9وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ
اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
7آیت

ترجمہ — اعراف 7

سورہ آیت 7/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں