اعراف · 90/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ ۝٩٠
Wa qaalal mala ul lazeena kafaroo min qawmihee la`init taba`tum Shu`aiban innakum izal lakhaasiroon
📖 اردو ترجمہ
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمَلَأُ: قوم کے بڑے لوگ، سردار اور معززین۔
  • لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ: اگر تم نے پیروی کی۔
  • لَخَاسِرُونَ: نقصان اٹھانے والے، تباہ و برباد ہونے والے۔

تفسیر:

جب حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور انہیں برے کاموں سے روکا، تو قوم کے بڑے لوگوں نے جو کفر پر جمے ہوئے تھے اور حق کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے، اپنے لوگوں کو ڈرانے اور روکنے کے لیے یہ بات کہی کہ "اگر تم نے شعیب کی پیروی کی اور ان کے دین کو قبول کر لیا، تو یقیناً تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔" انہوں نے اپنے اس قول سے لوگوں کو دھمکانا چاہا کہ شعیب کا راستہ اختیار کرنا تمہارے لیے تباہی کا سبب بنے گا، اور تم اپنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ کر گمراہی میں پڑ جاؤ گے۔

یہ بات انہوں نے اپنے زعم میں کہی، حالانکہ حقیقت میں نقصان اٹھانے والے وہی تھے جو حق کو چھوڑ کر باطل پر قائم رہے۔ انہوں نے اپنے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ خوف دلایا کہ شعیب کی اتباع تمہیں دنیا میں بھی نقصان دے گی اور آخرت میں بھی، حالانکہ یہ محض ان کا جھوٹ اور فریب تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کی دعوت دینے والوں کو ہمیشہ مخالفت اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ باطل کے پیروکار اپنے لوگوں کو حق سے روکنے کے لیے طرح طرح کی دھمکیاں دیتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی مدد کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کی دھمکیوں سے ڈریں نہیں، بلکہ حق پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ اصل نقصان اٹھانے والے وہی ہیں جو اللہ کے دین سے منہ موڑتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ کی رحمت اور کامیابی انہیں کے لیے ہے جو اس کے راستے پر چلتے ہیں، چاہے دنیا والے انہیں نقصان میں ہی کیوں نہ سمجھیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 88-92 — اعراف

88۞ قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ
(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
89قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
90وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
91فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
92الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۚ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ
(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
90آیت

ترجمہ — اعراف 90

سورہ اعراف آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر…

سورہ آیت 90/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں