تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الرَّجْفَةُ: زلزلہ، بھونچال، شدید جھٹکا۔
جَاثِمِينَ: منہ کے بل گرے ہوئے، بے جان ہو کر پڑے رہنے والے، ہلاک شدہ۔
تفسیر:
جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنے کفر اور سرکشی پر اصرار کیا اور اللہ کے عذاب کو مذاق سمجھ کر جلدی طلب کیا، تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آ پہنچا۔ ایک زبردست زلزلہ آیا جس نے ان کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا، ان کے قدم اکھڑ گئے، ان کے دل دہل گئے اور وہ اپنے ہی گھروں میں منہ کے بل گر کر ہلاک ہو گئے۔ صبح ہوتے ہی وہ اپنے گھروں میں مردہ پڑے تھے، نہ کوئی حرکت تھی نہ کوئی آہٹ، بالکل اس طرح جیسے جمے ہوئے پتھر ہوں۔ وہ قوم جو اپنی طاقت اور مال و دولت پر ناز کرتی تھی، ایک ہی لمحے میں مٹی کا ڈھیر بن گئی۔
یہ واقعہ ہر اس شخص کے لیے عبرت کا نشانہ ہے جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتا ہے اور حق کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے، وہ جب کسی قوم کو پکڑتا ہے تو کوئی اسے بچا نہیں سکتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور اپنے نبیوں کی مخالفت کا انجام کتنا برا ہوتا ہے۔ آج بھی جو لوگ حق کو سن کر اسے قبول نہیں کرتے، وہ اللہ کے عذاب سے ڈریں۔ لیکن ساتھ ہی اللہ کی رحمت بھی وسیع ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اپنے نبی ﷺ کی سنت کو اپنائیں اور کبھی بھی اللہ کے عذاب سے بے خوف نہ ہوں۔ یہ دنیا عارضی ہے، اصل کامیابی آخرت میں ہے، اس لیے ہمیشہ نیکی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائیں تاکہ اللہ کی رحمت اور جنت کے حقدار بن سکیں۔
اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔