ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عَشِيَّةً: شام کا وقت، سورج ڈھلنے سے غروب تک کا عرصہ۔
- ضُحَاهَا: اس (عشیہ) کا صبح کا وقت، یعنی دن کا ابتدائی حصہ۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی ہولناکی اور اس کی شدت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب کافر اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، تو انہیں ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ دنیا میں بہت کم عرصہ رہے تھے—صرف ایک شام یا اس کا صبح کا حصہ۔ یہ اس لیے کہ قیامت کا منظر اتنا خوفناک اور ہولناک ہوگا کہ دنیا کی لمبی عمریں بھی انہیں ایک پل جیسی لگیں گی۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے دو وقتوں کا ذکر کیا ہے: عشیہ (شام) اور ضحیٰ (صبح)۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی پوری زندگی ان کے نزدیک ایک دن کے کسی ایک حصے سے زیادہ نہ ہوگی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کچھ بھی نہیں، اور جو لوگ اس فانی دنیا کو دائمی سمجھ کر اللہ کی اطاعت سے غافل رہے، وہ قیامت کے دن اپنی غلطی کا احساس کریں گے، لیکن اس وقت پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے، چاہے انسان سو سال بھی جی لے۔ یہ لمحہ بھر کا سفر ہے، جس کے بعد ایک ابدی زندگی شروع ہونی ہے۔ اگر ہم اس مختصر سی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں تو آخرت میں ہمیں ابدی خوشیاں ملیں گی، اور اگر ہم غفلت میں رہیں تو وہاں پشیمانی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے راستہ دکھا دیا ہے، اور ہر شخص کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا لے۔ آئیے ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں، تاکہ قیامت کے دن ہمیں کوئی شرمندگی نہ ہو۔
📜 آیت 44-46 — نازعات
ترجمہ — نازعات 46
سورہ نازعات آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں…سورہ آیت 46/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 44–46. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








