ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نَصَبٌ: تھکان، مشقت، تکلیف۔
- بِمُخْرَجِینَ: نکالے جانے والے، باہر کئے جانے والے۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اہلِ تقویٰ کے لیے جنت کی دو عظیم نعمتوں کا ذکر فرما رہی ہے۔ پہلی نعمت یہ ہے کہ جنت میں انہیں کسی قسم کی تھکان، مشقت یا تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ دنیا کی زندگی میں انسان کو جہاں بھی راحت ملتی ہے، اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مشقت وابستہ ہوتی ہے، لیکن جنت کی نعمتیں انتہائی کامل اور بے عیب ہیں۔ وہاں کی ہر لذت خالص ہے، ہر راحت بے غبار ہے، اور ہر نعمت ایسی ہے جس میں کوئی نقص یا کمی نہیں۔ نہ وہاں گرمی کی شدت ہوگی، نہ سردی کی سختی، نہ بھوک پیاس کا عذاب، نہ کوئی بیماری یا کمزوری۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی جگہ تیار کی ہے جہاں وہ ہمیشہ تازگی، خوشی اور سکون کی زندگی گزاریں گے۔
دوسری نعمت جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے، اور وہ ہے جنت میں ہمیشہ رہنا۔ فرمایا: "وہ جنت سے کبھی نکالے جانے والے نہیں ہیں۔" یہ وہ عظیم بشارت ہے جو مومنین کے دلوں کو مسرت سے بھر دیتی ہے۔ دنیا کی ہر خوشی عارضی ہے، ہر مسرت کا انجام غم ہے، ہر راحت کے بعد مشقت آتی ہے، لیکن جنت کی نعمتیں دائمی اور لازوال ہیں۔ وہاں سے نکلنے کا کوئی خوف نہیں، موت کا کوئی اندیشہ نہیں، زوال کا کوئی خطرہ نہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو جنت کی نعمتوں کو مکمل اور بے حد لذیذ بناتی ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کی محنت اور مشقت کا صلہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آخرت میں ایسی جگہ دے کر دے گا جہاں نہ کوئی تکلیف ہے اور نہ ختم ہونے کا خوف۔ یہ وہ کامیابی ہے جس کے لیے ہمیں دنیا میں صبر اور تقویٰ کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے جنت کی ان نعمتوں کا مستحق بنائے، آمین۔
📜 آیت 46-50 — حجر
ترجمہ — حجر 48
سورہ حجر آیت 48 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ…سورہ آیت 48/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 46–50. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








