ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الصَّیْحَةُ: شدید آواز، چیخ، عذاب کی وہ آواز جو ہلاک کر دینے والی ہو۔
- مُشْرِقِینَ: صبح کے وقت، سورج نکلنے کے وقت۔
تفسیر:
جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اپنی سرکشی، نافرمانی اور بدکاریوں پر اڑی رہی، اور آپ کی نصیحتوں کو ماننے کے بجائے آپ کو جھٹلانے اور آپ کے پاس آنے والے مہمانوں (فرشتوں) سے بری ارادہ کرنے لگی، تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔ یہ عذاب "صیحہ" یعنی ایک ایسی خوفناک اور ہولناک آواز کی صورت میں آیا جس نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ آواز حضرت جبرائیل علیہ السلام کی تھی جس نے انہیں ہلاک کر دیا۔
یہ عذاب انہیں اس وقت آیا جب سورج طلوع ہو رہا تھا، یعنی صبح کا وقت تھا۔ گویا وہ لوگ صبح کے وقت اس حالت میں تھے کہ سورج نکل رہا تھا اور اچانک اللہ کا عذاب ان پر آ پہنچا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کا عذاب کسی کو خبردار کیے بغیر آ سکتا ہے، چاہے وہ کسی بھی وقت ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں پر اصرار کرنے والوں کو اللہ کا عذاب اچانک آ دبوتا ہے۔ جب انسان اللہ کی طرف سے بھیجے گئے پیغمبروں اور ان کی تعلیمات کو جھٹلاتا ہے اور اپنی بداعمالیوں پر قائم رہتا ہے، تو اللہ کا عذاب اسے اس وقت آ لیتا ہے جب اسے اس کی توقع نہیں ہوتی۔
یہ آیت ہمیں اللہ کی رحمت اور اس کے عذاب دونوں کی یاد دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اور اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور راہِ راست پر آ جائیں۔ لیکن اگر کوئی قوم اپنی سرکشی پر قائم رہے اور نصیحتوں کو نہ مانے، تو اللہ کا عذاب اسے ضرور آ لیتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نافرمانی سے بچیں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور اللہ سے توبہ کریں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور انہیں معاف کر دیتا ہے۔ اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں۔
📜 آیت 71-75 — حجر
ترجمہ — حجر 73
سورہ حجر آیت 73 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑاسورہ آیت 73/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 71–75. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








