ترجمہ — Tafsir
فِرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو زمینِ مصر سے نکال باہر کرے اور انہیں جلاوطن کر دے۔ اس نے یہ ارادہ اس لیے کیا تھا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت اور ان کے اثر کو ختم کرنا چاہتا تھا، کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا رہے ہیں اور ان کی طاقت بڑھ رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے اس شریر ارادے کا بدلہ اسے ایسے دیا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو سب کو سمندر میں غرق کر دیا۔ یہ اللہ کی قدرت کا عظیم مظاہرہ تھا کہ جس فرعون نے اللہ کی زمین پر ظلم اور سرکشی کی انتہا کر دی تھی، اسے اور اس کے لشکر کو ایک ہی لمحے میں نیست و نابود کر دیا گیا۔
اس واقعے میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو ان کی سزا دیتا ہے۔ کوئی بھی ظالم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ یہ ایمان والوں کے لیے تسلی کا باعث ہے کہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہے اور باطل کو مٹا کر رہتا ہے۔
آج بھی جب کوئی ظالم طاقت کے نشے میں چور ہو کر حق کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ فرعون کی عاقبت کیا ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، اور ہر ظلم کا حساب اس کے پاس محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کو صبر اور توکل کی تلقین کی گئی ہے، کیونکہ اللہ کی مدد ضرور آتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی دیر سے کیوں نہ آئے۔
📜 آیت 101-105 — اسراء
ترجمہ — اسراء 103
سورہ اسراء آیت 103 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو اس نے چاہا کہ ان کو سر زمین (مصر)…سورہ آیت 103/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 101–105. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








