ترجمہ — Tafsir
فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ ۖ قَالُوا يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا
معانی الفاظ:
- فَرِيًّا: یعنی بہت بڑا، ناقابلِ برداشت اور افتراء پر مبنی کام۔ اس کا مادہ "فری" ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کو کاٹ کر تراشنا، گویا ایسا عظیم الزام جو حقیقت سے کاٹ کر گھڑا گیا ہو۔
تفسیر:
جب حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے حکم سے اس دور دراز مقام سے واپس آ کر اپنی قوم کے سامنے اپنے نوزائیدہ بچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گود میں اٹھائے پیش کیا، تو قوم نے یہ منظر دیکھ کر حیرت اور صدمے کے ساتھ کہا: "اے مریم! تو نے تو بہت بڑا اور ناقابلِ معافی کام کر ڈالا ہے۔" وہ اس لیے حیران تھے کہ مریم علیہا السلام ایک پاک دامن، عابدہ اور نیک خاتون تھیں، جو بیت المقدس کی خدمت میں مشغول رہتی تھیں۔ ان کی قوم اہلِ ایمان اور صالح لوگ تھے، اس لیے انہوں نے اسے ایک افتراء اور بہتان تصور کیا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ اللہ کا معجزہ ہے، اور یہ بچہ بغیر باپ کے اللہ کے حکم سے پیدا ہوا ہے۔ ان کا یہ اندازِ گفتگو فطری تھا، کیونکہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ ناممکن بات تھی، لیکن اللہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو آزماتا ہے تو وہ آزمائش ظاہری طور پر ناممکن اور ناقابلِ فہم ہوتی ہے، لیکن اللہ اپنے ولیوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں ذلت سے بچاتا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام نے اس مشکل گھڑی میں صبر اور توکل کا مظاہرہ کیا، اور اللہ نے انہیں بچے کی زبان سے گویائی دے کر ان کی برأت کا اعلان کروایا۔ یہ ہمارے لیے بھی پیغام ہے کہ جب ہم اللہ پر بھروسہ کریں اور صبر کریں تو اللہ ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دیتا ہے۔ نیز یہ کہ معاشرے میں پاک دامنی اور نیکی کی قدر کی جانی چاہیے، اور کسی پر الزام لگانے سے پہلے اس کے بارے میں اچھی رائے رکھنی چاہیے، کیونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔
📜 آیت 25-29 — مریم
ترجمہ — مریم 27
سورہ مریم آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے…سورہ آیت 27/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








