مریم · 8/98
ترجمہ تلفظ — مریم
قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا ۝٨
Qaala Rabbi annaa yakoonu lee ghulaamunw wa kaanatim ra atee aaqiranw wa qad balaghtu minal kibari `itiyyaa
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔ جس حال میں میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عَاقِرًا: بانجھپن، وہ عورت جو کبھی اولاد نہ دے سکے۔
  • عِتِیًّا: بڑھاپے کی انتہا، ہڈیوں کا خشک اور سخت ہو جانا، بوڑھاپے کی وہ منزل جب انسان بالکل ناتواں ہو جائے۔

تفسیر:

حضرت زکریا علیہ السلام جب فرشتوں کی بشارت سن کر حیرت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا: "اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے؟" یہ سوال انہوں نے اللہ کی قدرت پر شک کی وجہ سے نہیں کیا، بلکہ یہ انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق تعجب اور حیرت کا اظہار تھا۔ انہوں نے دو واضح وجوہات بیان کیں: ایک یہ کہ ان کی بیوی بانجھ تھی جو کبھی ماں نہ بن سکی، اور دوسری یہ کہ وہ خود بڑھاپے کی اس انتہائی منزل کو پہنچ چکے تھے جہاں ہڈیاں خشک اور سخت ہو چکی تھیں، جسم کی طاقت جواب دے چکی تھی، اور اولاد کی امید بالکل ختم ہو چکی تھی۔

یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی عاجزی اور کمزوری کا اعتراف کرتا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنی بشری کمزوریوں کا ذکر کیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا کہ وہ اللہ کی قدرت سے ناامید نہیں ہیں، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ یہ سوال دراصل ان کے ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، لیکن وہ اس حکمت اور طریقہ کار کو جاننا چاہتے تھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی بھی قانونِ فطرت کی پابند نہیں۔ جب اللہ کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اسے کر کے ہی رہتا ہے، چاہے ظاہری اسباب کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کی قدرت پر مکمل یقین رکھیں، اور جب حالات انتہائی مشکل اور ناامید کن ہوں تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کا انداز ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کریں اور اس سے مدد طلب کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار سنتا ہے اور ان کی حاجتیں پوری کرتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی ناممکن کیوں نہ لگیں۔ یہ ایمان کی حقیقی روح ہے کہ ہم اللہ کی قدرت کو اپنے محدود عقل سے نہ ناپیں، بلکہ یقین رکھیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 6-10 — مریم

6يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا
جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو
7يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا
اے زکریا ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا
8قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا
انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔ جس حال میں میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں
9قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا
حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے
10قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً ۚ قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا
کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے
مریمقرآن فہرست
98آیت
مکیRevelation
8آیت

ترجمہ — مریم 8

سورہ مریم آیت 8 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔…

سورہ آیت 8/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں