ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اتَّخَذَ: اختیار کیا، بنایا، قرار دیا۔
- وَلَدًا: بیٹا، اولاد۔
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے قول کا ذکر فرما رہے ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں انتہائی گستاخانہ اور باطل عقیدہ رکھا۔ یہ کفارِ مکہ، یہود، نصاریٰ اور وہ مشرکین جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تھا، سب نے کہا کہ رحمن (اللہ) نے اپنا کوئی بیٹا بنا لیا ہے۔
یہ انتہائی سنگین اور باطل قول ہے جو اللہ کی ذاتِ پاک کے بارے میں بدترین تہمت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ وہ واحد ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اولاد کا تصور تو صرف مخلوقات کے لیے ہے جو کسی نہ کسی حاجت، کمزوری یا تسلسلِ نسل کے تحت اولاد رکھتے ہیں، لیکن اللہ تو ہر حاجت اور کمزوری سے پاک ہے۔
یہ عقیدہ درحقیقت توحید کے خلاف ہے اور اللہ کی عظمت و کبریائی کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قول کو اتنا سخت قرار دیا کہ آگے چل کر فرمایا کہ اس قول سے آسمان پھٹنے کے قریب آ جاتے ہیں، زمین شق ہو جاتی ہے اور پہاڑ ڈھے جاتے ہیں، کیونکہ یہ ایسی بات ہے جس کی ہولناکی سے کائنات تک لرز جاتی ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں توحید کی عظمت اور شرک و بدعت سے بچنے کی تلقین کرتی ہے۔ ہمیں اللہ کے بارے میں ہر اس خیال سے بچنا چاہیے جو اس کی شان کے خلاف ہو۔ اللہ نے خود اپنے بارے میں جو صفات بیان فرمائی ہیں، ہم انہی پر ایمان رکھیں اور کسی بھی ایسی بات سے پرہیز کریں جو اس کی ذاتِ پاک کے خلاف ہو۔ یہی توحید ہے جو ہمیں جنت تک پہنچائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدے پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 86-90 — مریم
ترجمہ — مریم 88
سورہ مریم آیت 88 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہےسورہ آیت 88/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








