بقرہ · 206/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتۡهُ ٱلۡعِزَّةُ بِٱلۡإِثۡمِۚ فَحَسۡبُهُۥ جَهَنَّمُۖ وَلَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ  ۝٢٠٦
Wa izaa qeela lahuttaqil laaha akhazathul izzatu bil-ism; fahasbuhoo jahannam; wa labi`sal mihaad
📖 اردو ترجمہ
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اتَّقِ اللہ: اللہ سے ڈرو، اس کے عذاب سے بچو۔
  • الْعِزَّةُ: تکبر، غرور، بڑائی کا جھوٹا دعویٰ۔
  • بِالْإِثْمِ: گناہ پر، ظلم پر۔
  • حَسْبُهُ: اس کے لیے کافی ہے۔
  • الْمِهَادُ: فرش، بچھونا، آرام گاہ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقوں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کا ایک اور برا کردار بیان فرما رہے ہیں۔ جب ایسے شخص کو نصیحت کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ "اللہ سے ڈرو، اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو، اپنے فساد اور ظلم سے باز آؤ"، تو اس کا ردِ عمل کیا ہوتا ہے؟ وہ نصیحت قبول نہیں کرتا، بلکہ اس کا تکبر اور غرور اسے گناہ پر اڑے رہنے پر ابھارتا ہے۔ وہ حق کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور اپنی جھوٹی بڑائی کی وجہ سے نصیحت کرنے والے کو حقیر سمجھتا ہے۔ اس کی یہ کیفیت اسے مزید گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر تکبر کی مہر لگی ہوتی ہے، اور وہ کسی بھی نیک مشورے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے لیے جہنم کافی ہے — یعنی ان کا انجام جہنم ہے، جو ان کے تمام اعمال کا بدلہ ہوگا۔ اور جہنم کیا ہے؟ یہ بدترین آرام گاہ ہے، بدترین ٹھکانہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ان کا ٹھکانہ ہوگا، اور وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ جب اسے کوئی نصیحت کرے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، تو اسے غور سے سنے اور قبول کرے۔ تکبر اور غرور وہ بیماری ہے جو انسان کو حق قبول کرنے سے روکتی ہے اور اسے جہنم تک پہنچا دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" (مسلم)

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم نصیحت قبول کرنے والے بنیں، تکبر سے بچیں، اور اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں۔ یاد رکھیں، اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ بندہ ہے جو حق کو سن کر قبول کر لے، چاہے وہ کسی سے بھی سنے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 204-208 — بقرہ

204وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعۡجِبُكَ قَوۡلُهُۥ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلۡبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلۡخِصَامِ 
اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
205وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيهَا وَيُهۡلِكَ ٱلۡحَرۡثَ وَٱلنَّسۡلَۚ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَسَادَ 
اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
206وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتۡهُ ٱلۡعِزَّةُ بِٱلۡإِثۡمِۚ فَحَسۡبُهُۥ جَهَنَّمُۖ وَلَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ 
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
207وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡرِي نَفۡسَهُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ رَءُوفُۢ بِٱلۡعِبَادِ 
اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے
208يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱدۡخُلُواْ فِي ٱلسِّلۡمِ كَآفَّةً وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِينٌ 
مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
206آیت

ترجمہ — بقرہ 206

سورہ آیت 206/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 204–208. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں