ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اتَّقِ اللہ: اللہ سے ڈرو، اس کے عذاب سے بچو۔
- الْعِزَّةُ: تکبر، غرور، بڑائی کا جھوٹا دعویٰ۔
- بِالْإِثْمِ: گناہ پر، ظلم پر۔
- حَسْبُهُ: اس کے لیے کافی ہے۔
- الْمِهَادُ: فرش، بچھونا، آرام گاہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقوں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کا ایک اور برا کردار بیان فرما رہے ہیں۔ جب ایسے شخص کو نصیحت کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ "اللہ سے ڈرو، اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو، اپنے فساد اور ظلم سے باز آؤ"، تو اس کا ردِ عمل کیا ہوتا ہے؟ وہ نصیحت قبول نہیں کرتا، بلکہ اس کا تکبر اور غرور اسے گناہ پر اڑے رہنے پر ابھارتا ہے۔ وہ حق کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور اپنی جھوٹی بڑائی کی وجہ سے نصیحت کرنے والے کو حقیر سمجھتا ہے۔ اس کی یہ کیفیت اسے مزید گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر تکبر کی مہر لگی ہوتی ہے، اور وہ کسی بھی نیک مشورے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے لیے جہنم کافی ہے — یعنی ان کا انجام جہنم ہے، جو ان کے تمام اعمال کا بدلہ ہوگا۔ اور جہنم کیا ہے؟ یہ بدترین آرام گاہ ہے، بدترین ٹھکانہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ان کا ٹھکانہ ہوگا، اور وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ جب اسے کوئی نصیحت کرے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، تو اسے غور سے سنے اور قبول کرے۔ تکبر اور غرور وہ بیماری ہے جو انسان کو حق قبول کرنے سے روکتی ہے اور اسے جہنم تک پہنچا دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" (مسلم)
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم نصیحت قبول کرنے والے بنیں، تکبر سے بچیں، اور اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں۔ یاد رکھیں، اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ بندہ ہے جو حق کو سن کر قبول کر لے، چاہے وہ کسی سے بھی سنے۔ آمین۔
📜 آیت 204-208 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 206
سورہ آیت 206/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 204–208. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








