ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَتَىٰ: کب، کس وقت
- هَذَا الْوَعْدُ: یہ وعدہ (یعنی قیامت، عذاب یا حساب و جزا کا وعدہ)
- صَادِقِينَ: سچے، راست باز
تفسیر:
کفارِ مکہ اور منکرینِ آخرت اپنی نادانی اور استہزاء کے انداز میں بار بار کہتے ہیں کہ "یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ عذاب یا قیامت کب آئے گی؟" وہ اس طرح سوال کرتے ہیں جیسے وہ اس وعدے کو مذاق میں اڑا رہے ہوں اور اپنے دلوں میں اس کے وقوع کو ناممکن سمجھتے ہوں۔
یہ سوال دراصل ان کی جلد بازی اور بے صبری کا نتیجہ ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اپنے مقررہ وقت پر ضرور پورا ہوگا، چاہے وہ جلد آئے یا دیر سے۔ اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، اور وہ وقت آنے پر کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔
یہاں اللہ تعالیٰ ان کے اس رویے کو بیان فرما رہے ہیں تاکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو تسلی دی جائے کہ ان کی یہ باتیں محض جہالت اور استہزاء پر مبنی ہیں۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ کے وعدوں پر یقین رکھے اور ان کے پورا ہونے کا انتظار کرے، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ اللہ کے وعدوں پر مکمل یقین رکھنا چاہیے۔ کفار کی طرح ہم بھی جلد بازی نہ کریں اور نہ ہی اللہ کے وعدے کو جھٹلائیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار قیامت، حساب اور جزا کا وعدہ فرمایا ہے، اور یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اس یقین کے ساتھ گزاریں کہ ہر عمل کا حساب ہوگا، اور اس حساب کی تیاری کریں۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اس یقین پر ثابت قدم رکھے اور آخرت کی تیاری کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 36-40 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 38
سورہ انبیاء آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس…سورہ آیت 38/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








