ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بِالْحَقِّ: سچائی اور حقیقت کے ساتھ، یعنی جو کچھ تم لائے ہو کیا وہ حقیقت پر مبنی ہے؟
- اللَّاعِبِینَ: کھیلنے والے، مذاق کرنے والے، جو سنجیدہ نہ ہوں۔
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی کی برائی سے آگاہ کیا اور انہیں توحید کی دعوت دی، تو ان کی قوم نے تعجب اور انکار کے انداز میں کہا: "کیا تم ہمارے پاس حق اور سچائی لے کر آئے ہو، یا تم ان لوگوں میں سے ہو جو کھیل اور مذاق کرتے ہیں؟" یعنی انہوں نے آپ کی دعوت کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے اسے محض تفریح اور لہو و لعب کا معاملہ سمجھا۔ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر یہ بات ٹھوس دلیل کے ساتھ پیش کرو، ورنہ تمہاری یہ باتیں ایک کھلاڑی کی سی معلوم ہوتی ہیں جو حقیقت سے دور ہے۔
یہ اندازِ گفتگو دراصل ان کی ہٹ دھرمی اور حق سے بے اعتنائی کا مظہر تھا۔ وہ اس لیے یہ سوال کر رہے تھے کہ وہ حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، بلکہ وہ تو صرف الزام تراشی اور تضحیک کرنا چاہتے تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے اس رویے کا بھرپور جواب دیا اور انہیں حق کی روشنی دکھائی، جیسا کہ اگلی آیات میں آتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کی دعوت دینے والوں کو ہمیشہ مخالفین کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ایک مومن کو چاہیے کہ وہ ان حالات میں ثابت قدم رہے، کیونکہ حق کا راستہ ہمیشہ سچائی اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص حق کی طرف بلاتا ہے تو اسے یقین ہونا چاہیے کہ اللہ کی مدد اس کے ساتھ ہے، چاہے لوگ اسے کھیل اور مذاق ہی سمجھیں۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں حق کی دعوت دیتے وقت صبر اور حکمت سے کام لینا چاہیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ آخر کار حق ہی غالب آتا ہے۔
📜 آیت 53-57 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 55
سورہ انبیاء آیت 55 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو…سورہ آیت 55/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








